اشاعت کے باوقار 30 سال

وزیر اعلیٰ کی علامہ اقبالؒ کے مزار پر حاضری

وزیر اعلیٰ کی علامہ اقبالؒ کے مزار پر حاضری

لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے یوم اقبال پر حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ کے مزار پر حاضری دی۔ وزیر اعلیٰ نے علامہ محمد اقبالؒ کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی، فاتحہ خوانی کی اور وطن عزیز کی ترقی و خوشحالی اور سلامتی کے لئے خصوصی دعا کی۔ وزیر اعلیٰ نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات درج کئے اور ڈاکٹر محمد اقبالؒ کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔ وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبالؒ کی شاعری نے برصغیر کے مسلمانوں میں ایک علیحدہ وطن کے حصول کی تحریک پیدا کی اور ان کے خواب کو قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں عظیم جدوجہد کے نتیجے میں عملی تعبیر ملی۔ علامہ اقبالؒ کی شاعری، افکار اور فرمودات کسی مخصوص وقت کے لئے نہیں اور ان کی شاعری زمان و مکاں کی قید سے آزاد ہے اور آج ہمیں ان اشعار اور فرمودات سے رہنمائی لینی چاہیئے کیونکہ اقبالؒ کا فلسفہ آج بھی ہماری بقا کا ضامن ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے امن اور بھائی چارے کا پیغام دیا ہے۔ ان کے افکار پر عمل پیرا ہو کر کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ علامہ اقبالؒ کی شاعری سے نہ صرف دنیا کے اربوں مسلمانوں بلکہ پوری دنیا کو روشنی اور رہنمائی ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم گزشتہ 70 برس کے دوران ہر سال اقبالؒ کے مزار پر حاضری دیتے ہیں، فاتحہ خوانی کرتے ہیں اور یہاں رکھی گئی کتاب میں اپنے تاثرات بھی درج کرتے ہیں لیکن ہمیں اس بات کا بھی جائزہ لینا ہے کہ ان کے اشعار، افکار اور سوچ و فکر پر کہاں تک عمل کیا گیا ہے۔ ان کے افکار کی روشنی میں قوم کی تقدیر بدلنے کے لئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں؟ یہ سوالیہ نشان ہے۔ اور یہی سوال پوری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے۔ گزشتہ 70 برس میں علامہ اقبالؒ کے اشعار اور فلسفہ کے بارے میں بے شمار مقالے لکھے گئے اور تقاریر کی گئی ہیں لیکن ان پر عمل نہیں کیا گیا۔ غریب، بیوہ، یتیم اور بے سہارا افراد کی حالت زار بدلنے کے لئے کچھ نہ کیا گیا۔ ہمیں دیکھنا ہو گا امیر اور غریب کے درمیان خلیج کو کم کرنے کے لئے کیا کوشش کی گئی؟ انہوں نے کہا کہ کرپشن اور قومی وسائل کی لوٹ مار نے پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے، ہر طرف چھینا جھپٹی ہے۔ ہمیں اس بات کا بھی جائزہ لینا ہے کہ کرپشن کی روک تھام کے لئے کیا تدابیر اختیار کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شفاف احتساب کا عمل دفن ہو چکا ہے اورشفاف احتساب کا عمل ختم ہو چکا ہے۔ ملک میں اقربا پروری، سفارش اور رشوت چلتی ہے۔ احتسابی عمل ایسا ہونا چاہیئے جو شفاف اور بے لاگ ہو۔ علامہ اقبالؒ کی ولولہ انگیز شاعری، افکار اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی عظیم جدوجہد اور فرمودات ہونے کے باوجود ہم پستی کا شکار ہیں اور غریب عوام کو تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، انصاف اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں ناکام ہیں۔ منزل کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹیں تساہل، کرپشن کلچر، غیر منصفانہ احتسابی عمل، میرٹ کی پامالی اور اقربا پروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ محنت، امانت اور دیانت کے سنہری اصول اور قائدؒ و اقبالؒ کے فرمودات پر عمل پیرا ہو کر ہی قیام پاکستان کے مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ محنت، امانت اور دیانت کے اصول ہی علامہ اقبالؒ کی شاعری کا نچوڑ ہیں اور ہماری منزل کے حصول کا ذریعہ بھی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی دولت کو لوٹنے والے کرپٹ اشرافیہ کہلاتے ہیں جبکہ ایماندار اور دیانتدار کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ملک کے اربوں کھربوں کے وسائل لوٹے گئے اور کوئی ان کا نام نہیں لیتا اور انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہے، حالانکہ سب کو ان کا علم ہے۔ پیراڈائز لیکس میں برطانیہ کے شہزادے چارلس کا نام آیا ہے تو پوری دنیا کے میڈیا میں اس کا چرچا ہے جبکہ پاکستان میں غریب قوم کے اربوں روپے لوٹنے والوں کا کوئی ذکر نہیں کرتا۔ اگر ہمارا یہی حال رہا تو تاریخ میں ہمارا نام و نشان نہ رہے گا۔ اگر ہماری یہی چال اور ڈھال رہی تو یہاں احتساب ہو گا نہ تاریخ میں ہمارا نام، لہٰذا ہمیں مل کر اس سفر کو محنت، دیانت اور امانت کے ذریعے ترقی کے سفر میں بدلنا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آئیے یوم اقبالؒ کے موقع پر عہد کریں کہ پاکستان کو قائدؒ و اقبالؒ کے افکار پر عمل پیرا ہوتے ہوئے صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے اور ملک سے کرپشن، اقربا پروری اور ناانصافی کا خاتمہ کریں گے۔ ہمیں یہ سفر مل کر طے کرنا ہے اور محنت، امانت اور دیانت کے اصول اپنا کر آگے بڑھنا ہے اور پاکستان کو ایک عظیم ملک بنانا ہے۔ آج ہمیں یوم اقبالؒ پر عہد کرنا چاہئے کہ ہم سب صدق دل اور ایمانداری سے 21 کروڑ عوام کی خدمت کریں گے اور انصاف کا بول بالا کریں گے۔ میرا ایمان ہے کہ محنت، دیانت اور امانت کے زیور کو اگر ہم اپنا لیں تو پاکستان قائدؒ اور اقبالؒ کا پاکستان ضرور بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے عمل میں کوتاہی ہے، ہم تساہل سے کام لیتے ہیں اور یہی ہمارے پیچھے رہ جانے کی وجوہات ہیں۔ محنت، امانت اور دیانت کے سنہری اصولوں کو اپنا لیں تو آج اپنی منزل پالیں گے۔

loading...