اشاعت کے باوقار 30 سال

کسی کے کچھ کہنے سے ہماری شان اور انصاف میں کمی نہیں آئے گی

کسی کے کچھ کہنے سے ہماری شان اور انصاف میں کمی نہیں آئے گی

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں جہانگیر ترین نااہلی کیس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ عدالت کے باہر جو کچھ ہوتا ہے کیا وہ قابل ستائش ہے، ہمارے تحمل اور برداشت کی داد دی جائے، کسی کے کچھ کہنے سے ہماری شان اور انصاف میں کمی نہیں آئے گی، جو مرتبہ ہمیں ملا ہے اس سے زیادہ اس دنیا میں کیا مل سکتا ہے، کسی کے لیے اپنے کام میں ڈنڈی کیوں ماریں جبکہ عدالت عظمیٰ نے حنیف عباسی کے وکیل کی جانب سے عمران خان کے 1997 کے کاغذات نامزدگی کا ریکارڈ منگوانے کی استدعا مسترد کر دی۔ جمعرات کو عدالت عظمی کے تین رکنی بنچ نے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جہانگیر ترین اور عمران خان کی نااہلی کے لئے دائر درخواستوں کی سماعت کی۔ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے عدالتی معاونت کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آرڈیننس کی جن شقوں پر آج سوال اٹھایا جا رہا ہے، جس وقت جہانگیر ترین نے شوکاز نوٹس پر جواب دیا اور جرمانہ جمع کرایا اس وقت قانون کو تسلیم کیا تھا۔ اگر کسی قانون کی شق پر اعتراض ہے تو اس کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر کے چیلنج کیا جا سکتا ہے مگر اس کیس کی کارروائی کے دوران قانون کو کالعدم قرار دینے کی استدعا نہیں کی جا سکتی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا جہانگیر ترین نے درخواست پر جواب میں اس قانون کو چیلنج کیا؟۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پہلے کے تحریری جواب میں ایسی کو بات نہیں کی گئی تاہم ضمنی جواب میں قانون کو آئین سے متصادم کہا گیا، اس پر اشتر اوصاف کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین نے شئیرز کی خریداری سے 7 کروڑ سے زائد کمائے، شوکاز نوٹس پر جہانگیر ترین نے غیرقانونی طریقے سے یہ رقم کمانے کا اعتراف کیا اور ایس ای سی پی کی کاروائی پر جہانگیر ترین نے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کسی قانون یا اس کے سیکشنز کو کسی وقت بھی چیلنج کیا جا سکتا ہے اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس معاملے پر متعلقہ فورم یا عدالت عظمی میں 184/3 کی درخواست دائر کر سکتے تھے کیا؟ چیف جسٹس نے کہا کہ جہانگیر ترین نے اپنے جواب میں قانون کو چیلنج کیا اشتر اوصاف نے عدالت کو بتایا کہ پہلے تحریری بیان میں جہانگیر ترین نے قانون کو چیلنج کیا، ضمنی جواب میں قانون کو چیلنج کیا گیا اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا منی بل کے ذریعے رینٹ کنٹرول سے متعلق قوانین میں ترمیم ہو سکتی ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ منی بل کے ذریعے ترمیم نہیں ہو سکتی، سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن کے سیکشنز میں ترمیم کا تعلق فنڈز سے ہے، منی بل کے ذریعے سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن کے سیکشنز میں ترمیم غیرقانونی نہیں، سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے کے بل کو براہ راست چیلنج کیا گیا، جہانگیر ترین کے خلاف سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن کی کاروائی حتمی ہو چکی ہے، سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن کی حتمی کاروائی کو دوسری جگہ چیلنج نہیں کیا جا سکتا، ہمارے سامنے سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن کی کاروائی کو چیلنج کیا گیا ہے، اگر کوئی سیکشن غیرآئینی بھی تھا تو ٹرانزیکشنز واپس نہیں ہو سکتی، اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ جہانگیر ترین پر کمیشن نے پینلٹی عائد کی، جہانگیر ترین نے وہ پینلٹی ادا کی، دوران سماعت جسٹس فیصل عرب کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن کا مقصد فنڈز جنریٹ کرنا نہیں ہے سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن کا کام فنانس کے معاملات کو ریگولیٹ کرنا ہے، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ قانون سازی پر عدالتی نظر ثانی ہو سکتی ہے جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ سیکیورٹی ایکسچینج سٹاک مارکیٹ کے معاملات کو دیکھتی ہے، اسٹاک مارکیٹ کا تعلق معیشت سے بھی ہے، اٹارنی جنرل اشر اوصاف کے دلائل ختم ہونے پر عدالت نے جہانگیر ترین کے وکیل کو تحریری گزارشات جمع کروانے کا حکم دے دیا تاہم جہانگیر ترین کے وکیل کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 184/3 کے تحت عدالت کسی بھی قانون سازی کا کسی بھی وقت جائزہ لے سکتی ہے، چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے وکیل نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ 2002 میں کاغذات نامزدگی مسترد نہیں ہوئے، عمران خان نے اگر اثاثے چھپائے ہوتے کاغذات نامزدگی مسترد ہو جاتے، کاغذات نامزدگی پر کوئی اعتراض نہیں اٹھائے گئے، اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ 1997 کے کاغذات نامزدگی میں لندن فلیٹ کو ظاہر نہیں کیا، چیف جسٹس نے کہا کہ 1997 کے کاغذات نامزدگی کی دستاویزات ہمارے پاس نہیں ہیں، 1997 کے کاغذات نامزدگی کا فارم کہاں سے ڈھونڈ کر لائیں اس پر نعیم بخاری نے کہا کہ 1997 کا الیکشن عمران خان نے نہیں جیتا تھا، عدالت 1997 کے کاغذات نامزدگی منگوانے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیس کو بہت لمبا نہیں چلانا چاہتے، 1997 کے کاغذات نامزدگی منگوانے کی استدعا نہیں کی گئی، جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ اصل سوال اب کیا گیا ہے کہ یورو اکاونٹ کہاں سے آ گیا جسٹ، 184/3 کے مقدمے میں درخواست گزار کی ذمہ داری ہے کہ غیر متنازعہ دستاویزات دے، جس کے خلاف درخواست ہے اس سے سوال پوچھ سکتے ہیں اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ عمران خان نے تسلیم کیا کہ این ایس ایل کمپنی بنائی، عمران خان نے تسلیم کیا 1997 کا الیکشن لڑا، دستاویزات دینے کی ذمہ داری اب عمران خان پر شفٹ ہو گئی ہے چیف جسٹس نے کہا کہ 1997 کے کاغذات نامزدگی منگوا لیں تو کیا ہو گا، چیف جسٹس نے کہا کہ 1997 میں عمران خان الیکشن ہار گئے تھے، اس پر اکرم شیخ نے کہا ہے 2002 میں عمران خان وزارت عظمی کے امیدوار تھے، اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ چھوڑیں یہ بات باہر جا کر کیجیے گا، جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ یہ بات کیمرے کے سامنے کر لیں اس پر اکرم شیخ نے کہا کہ ٹھیک ہے نعیم بخاری اپنے دلائل دے دیں میں بعد میں بات کر لوں گا نعیم بخاری نے کہا کہ مجھے دلائل دینے کے لیے آئندہ پیر تک مہلت دے دیں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم 1997 کا ریکارڈ منگوانے میں دلچسپی نہیں رکھتے، اکرم شیخ نے کہا کہ 1997 کی تحریک میں مجھے گرفتار کیا گیا اس کے بعد سیاست سے خود کو دور کر لیا اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے باہر جو کچھ ہوتا ہے کیا وہ قابل ستائش ہے؟، ہمارے تحمل اور برداشت پر داد دیجیے، کسی کے کہنے سے ہماری شان، انصاف میں کمی نہیں آئے گی، جو مرتبہ ہمیں ملا ہے اس سے زیادہ اس دنیا میں کیا مل سکتا ہے، کسی کے لیے اپنے کام میں ڈنڈی کیوں ماریں۔

loading...