اشاعت کے باوقار 30 سال

گرفتار افراد کے صرف نجی بینک کھاتے منجمد کیے ہیں

گرفتار افراد کے صرف نجی بینک کھاتے منجمد کیے ہیں

ریاض: سعودی عرب کے حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ کرپشن کے الزام میں گرفتار ہونے والے افراد کے صرف ذاتی بینک اکاونٹس منجمد کیے گئے ہیں جبکہ ان کی متعلقہ کمپنیوں کے اکاونٹس میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی۔ مانیٹری کمیٹی کے گورنر عبدالکریم الخوفی نے جمعرات کے روز ایک بیان جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ اینٹی کرپشن کمیٹی نے بلا امیتاز کارروائی کی جس کے نتیجے میں شہزادے اور سابق وزرا کو بھی گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حراست میں لیے گئے افراد کی کمپنیوں کے اکاونٹ کی تفتیش نہیں کی جائے گی تاہم ان کے ذاتی بینک کھاتوں کو بند کر کے حاصل ہونے والی آمدن کی تفتیش ضرور ہو گی۔ عبدالکریم الخوفی نے کہا کہ بینک کے ذریعے رقم باہر منتقل کرنے کے حوالے سے کسی پر کو ئی اعتراض نہیں اور جو تاجر اور بینک اس طریقے سے رقم کی ترسیل کرتے ہیں ان کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ واضح رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی ہدایت پر اینٹی کرپشن کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے پہلے مرحلے میں سعودی کھرب پتی شہزادے الولید بن طلال سمیت متعدد شہزادوں، حاضر اور سابق وزرا کو حراست میں لے لیا تھا۔ سعودی عرب کے امیر ترین شخصیات میں شامل شہزادے کی گرفتاری کے بعد سعودی اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا۔ قبل ازیں کرپشن الزام میں گرفتار ہونے والے تین افراد کے دبئی میں موجود اکاونٹ سینٹرل بینک کی ہدایت پر منجمد کر دیے گئے تھے، منجمد کیے جانے والے بینک کھاتوں میں 33 کھرب ڈالر سے زائد رقم موجود ہے۔ سعودی حکومت کی جانب سے بینک کھاتوں کو بند کرنے کے لیے سیکڑوں افراد کی فہرست بھی سامنے آئی ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ گرفتار افراد جن بینک اکانٹس میں زیادہ رقم منتقل کرتے تھے انہیں بھی تفتیش مکمل ہونے تک سیل کیا جائے گا۔ سعودی اٹارنی جنرل کی جانب سے پیر کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ حالیہ کارروائیاں انسداد کرپشن کے تحت کی جا رہی ہیں، شہزادوں اور کاروباری حضرات کی گرفتاریاں اس مہم کا پہلا حصہ ہیں۔سعودی میڈیا میں جاری خبروں کے مطابق ان گرفتاریوں کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی حمایت کی گئی ہے۔ یہ تمام گرفتاریاں اینٹی کرپشن کمیشن کے زیرِ سرپرستی کی گئیں ہیں جو سعودی فرماں روا شاہ سلمان نے شاہی حکم نامے کے تحت قیام عمل میں آئی تھی جس کے سربراہ ولی عہد محمد بن سلمان ہیں۔

loading...