اشاعت کے باوقار 30 سال

تینوں ریفرنسز یکجا کیس میں فیصلہ محفوظ

تینوں ریفرنسز یکجا کیس میں فیصلہ محفوظ

اسلام آباد: اسلام آباد کی احتساب عدالت نے شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز پر سماعت کی سابق نااہل وزیر اعظم نواز شریف بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے کمرہ عدالت میں ہجوم کی وجہ سے عدالت نے حاضری لگوانے کے بعد ملزمان کو جاننے کی اجازت دیتے ہوئے کاروائی جاری رکھنے کا حکم دیا بعد ازاں شریف خاندان کے قانونی مشیر خواجہ حارث اور نیب پراسیکیوٹر نے نیب کے تین ریفرنسز یکجا کر کے ایک فرد جرم عائد کرنے کی درخواست پر اپنے اپنے دلائل دیے عدالت نے جوائنٹ ٹرائل کے حوالے سے نواز شریف کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا جو کہ بدھ کو سنایا جائے گا اور آج دائر کی گئی کیلیبری فونٹ سے متعلق مریم اور کیپٹن صفدر کی درخواست پر سماعت بھی ملتوی کر دی تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) حکام کی جانب سے دائر ریفرنس پر گزشتہ منگل کے روز سماعت کی دوران سماعت سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے نیب کے 3 ریفرنسز یکجا کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ تینوں ریفرنسزمیں آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے جو ایک ہی انکوائری اور انویسٹی گیشن کے نتیجے میں بنے 9 گواہان بھی مشترک ہیں خواجہ حارث نے تینوں فرد جرم عدالت میں پڑھے اور نوازشریف کے عوامی عہدے ، لندن فلیٹس کی ملکیت، بے نامی دار اور ضابطہ فوجداری سمیت نیب ریفرنس کے مشترکہ پیراز کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کیا جس پر فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ ہائیکورٹ نے نیب آرڈییننس کے سیکشن 17 ڈی کے تحت درخواست نمٹانے کا حکم دیا کیا آپ ریفرنسز تین اور فرد جرم ایک چاہتے ہیں، خواجہ حارث نے تینوں ریفرنسز کو اکٹھا کر کے ایک فرد جرم عائد کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ضابط فوجداری کی شق 233 اور 239 کے تحت ایک الزام کے الگ الگ ٹرائل نہیں کیے جا سکتے ایک الزام پر متعدد ریفرنسز شفاف ٹرائل نہیں، تینوں ریفرنسز کو اکٹھا کر کے ایک فرد جرم عائد کی جائے، خواجہ حارث نے دلائل میں ریفرنسنز یکجا کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ سمیت دیگر عدالتوں کے فیصلے کا حوالے بھی دیئے۔ نیب نے تینوں ریفرنسز میں الزامات اورحقائق کا ذکر نہیں کیا گیا ایک گھنٹہ 25 منٹ کے بعد وکیل کے دلائل ختم ہوئے تو جج محمد بشیر نے نوازشریف کو جانے کی اجازت دیتے ہوئے سماعت 15 منٹ کے لئے ملتوی کر دی وقفے کے بعد نیب پراسیکیوٹر نیب پراسیکیوٹر واثق ملک نے دلائل دیئے جس میں نیب پراسیکیوٹر کے مختلف عدالتی فیصلوں کے حوالے دیے ہر کیس کے اپنے حقائق ہوتے ہیں فلیگ شپ میں مرکزی بے نامی دار حسن نواز ہے عزیزیہ ریفرنس میں مرکزی بے نامی دار حسین نواز ہے مختلف جرائم اور مختلف ٹرانزیکشن کی بنیاد پر ریفرنس الگ کئے گئے تینوں ریفرنس میں مرکزی ملزم ایک ہی ہے ایک جوان ہوتا بچہ ملین ڈالر کی امپائر کھڑی نہیں کر سکتا ہر جائیداد میں ہر شخص کا الگ کردار ہے العزیزیہ ریفرنس میں ہرملزم کا الگ کردار ہے فلیگ شپ ریفرنس میں صرف ایک ٹرانزیکشن آئی، نیب العزیزیہ میں مختلف ٹرانزیکشن پاکستان آئیں فرد جرم میں لکھا ہے کہ کس نے کیا کام کیا ڈیپارٹمنٹ ایک ہونے سے کام ایک نہیں ہوا ایف بی آر کا ریکارڈ 1997 سے شروع ہوتا ہے لندن فلیٹ کا ریکارڈ 1993 سے شروع ہوتا ہے سپریم کورٹ نے بھی مختلف جائیدادوں سے متعلق سوالات جے آئی ٹی کے سامنے رکھے ہر تفتیش کا الگ والیم ہے، گواہ مشترک ضرور ہیں لیکن ریکارڈ مختلف فراہم کرنا ہے نیب فیئر ٹرائل طریقہ کار کی پیروی کا نام ہے نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو مزید بتایا اس میں تین الگ ریفرنس ہی بنتے ہیں دو ملزمان ایسے ہیں جو شامل ہی نہیں ہو ئے ایک ملزم کی درخواست پر کیس یکجا نہیں کئے جاسکتے یہی درخواست ہائیکورٹ میں زیر بحث لائی گئی یہ درخواست سپریم کورٹ میں بھی ہیسب گواہان نے دستاویزات فراہم کرنی ہیں گواہان نے ریکارڈ تیار نہیں کیاجو دستاویزات آنی ہیں ان پر جرح ہونی ہے جوائنٹ ٹرائل میں سزا کا معاملہ بہت اہم ہے سزا ایک نہیں ہو گی خواجہ حارث کا جواب الجواب میں دلائل دیتے ہوئے کہا مختلف عدالتی فیصلے عدالت کے سامنے ہیں نظر ثانی درخواست میں بھی ایک جرم ایک ٹرائل کی بات کی، عدالت نے خواجہ حارث اور نیب پراسیکیوٹر کے دلائل سننے کے بعد فصیلہ محفوظ کر لیا جوائنٹ ٹرائل کے حوالے سے نواز شریف کی درخواست پر فیصلہ آج سنایا جائے گا اور دائر کی گئی کیلیبری فونٹ سے متعلق مریم اور کیپٹن صفدر کی درخواست پر سماعت آج تک کے لئے ملتوی کر دی۔

loading...