اشاعت کے باوقار 30 سال

پیراڈائز پیپرز: آف شور کمپنی مالکان کو نوٹس بھیجنے کی تیاری

پیراڈائز پیپرز: آف شور کمپنی مالکان کو نوٹس بھیجنے کی تیاری

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف انویسٹی گیشن(ایف بی آر) نے پیراڈائز پیپرز میں پاکستانی شہریوں کی آف شور کمپنیاں ظاہر ہونے پر انہیں نوٹس بھیجنے کی تیاری کر لی۔ ایف بی آر کے ذرائع نے بتایا کہ اس معاملے پر ایک غیر معمولی اجلاس منعقد کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے اپنے انٹیلی جنس اور تفتیشی ونگ کو ہدایت کی کہ جس طرح پاناما پیپرز کی تحقیقات کی گئی تھی اسی طرح حالیہ ہونے والی لیکس میں جس کے نام موجود ہیں یا جو میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے سب کو نوٹس جاری کیے جائیں۔ ہر فرد جسے نوٹس جاری ہو گا اسے 15 دن کے اندر ٹیکس حکام کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دینا ہو گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 135 پاکستانیوں کے نام حالیہ لیکس میں شامل ہیں جس میں سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کا نام بھی ہے، تاہم ذرائع کے مطابق انٹرنیشنل کونسورشم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس(آئی سی آئی جے) کی جانب سے 5 سے 6 لوگوں کے نام منظر عام پر لائے گئے ہیں۔ اس حوالے سے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے ریونیو ہارون اختر خان نے بتایا کہ معروف شخصیات کی معلومات حاصل کرنا آسان ہے تاہم عام شہری جن کے نام پیراڈائز لیکس میں آئے ہیں ان کی تفصیلات حاصل کرنے میں وقت لگے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مطلوبہ تفصیلات حاصل کرنے کا واحد طریقہ اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) ہے جس کے پاس اثاثہ جات کی تفصیلات کے حوالے سے پورا میکینزم موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا رپورٹس اور لیکس میں صرف ان لوگوں کی نشاندہی کی گئی جنہوں نے ٹیکس سے بچنے کے لیے سرمایہ کاری کی لیکن ٹیکس حکام کے لیے اصل چیلنج ان کے اثاثہ جات کی تفصیلات حاصل کرنا ہے جو لیکس میں نہیں بتائی گئی ہیں. اختر خان کا مزید کہنا تھا کہ ایف بی آر نے پاناما پیپرز کے حوالے سے پہلے ہی 9 ممالک میں موجود ٹیکس ہاوسز کو الگ الگ اثاثہ جات کے حوالے سے تفصیلات دینے کا کہا تھا تاہم کسی بھی ملک کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ ایک سینئر ٹیکس عہدیدار کا کہنا تھا کہ غیر رہائشی افراد کے لیے موجودہ انکم ٹیکس کا قانون بہت آسان ہے جس کے مطابق ایف بی آر سابق وزیر اعظم شوکت عزیز تک کو بھی نوٹس جاری نہیں کر سکتا۔ قانون کے مطابق سب سے پہلے ٹیکس حکام کو یہ معلوم کرنا ہو گا کہ جن پاکستانیوں کی آف شور کمپنیاں ہیں وہ قانونی طور پر تشکیل دی گئی ہیں یا ان کو غیر قانونی طور پر ٹیکس بچانے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ اگر کسی پاکستانی نے ٹیکس کی ادائیگی کے بعد رقم بیرون ملک بھیجی ہے اور اس کے بعد قانونی طور پر اپنے کاروبار کے لیے آف شور کمپنی قائم کی تو یہ عمل غیر قانونی نہیں ہو گا، تاہم اگر کسی پاکستانی نے بغیر ٹیکس کی ادائیگی کے غیر قانونی طریقے سے رقم بھیجی اور ٹیکس سے بچنے کے لیے آف شور کمپنی بنائی تو یہ غیر قانونی طریقہ کار ہے۔ آف شور کمپنیوں میں نامزد افراد کے پہلے نوٹس کے ذریعے انفرادی معلومات حاصل ہونے سے ایف بی آر کو اگے بڑھنے میں مدد ملے گی تاہم ٹیکس حکام کا کہنا تھا کہ ایسے کیسز میں ایف بی آر کو قانونی مدت کی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ ایف بی آر اس کیس میں 6 سال سے زائد عرصے تک تفتیش نہیں کرسکتا جبکہ ایف بی آر کے ترجمان ڈاکٹر محمد ارشاد نے بتایا کہ بورڈ پاناما پیپرز میں نام آنے والے لوگوں کے ناموں کی تصدیق کے لیے انتظار کر رہا ہے جس کے بعد پاناما پیپرز کی طرح ہی طریقہ کار اپنا کر تفتیش کی جائے گی۔ واضح رہے کہ پاکستان کا ٹیکس چوری سے بچنے کے لیے 9 ممالک میں موجود ٹیکس ہاسس سے کوئی معاہدہ نہیں ہے جس کی وجہ سے انفرادی طور پر لیکس میں نام آنے والوں کے حوالے سے ثبوت حاصل کرنا ناممکن ہے۔ پاناما اور پیراڈائز پیپرز شائع کرنے والے تفتیشی صحافیوں کا کہنا تھا ذرائع کی حفاظت کے لیے وہ حالیہ لیکس میں اصل دستاویز یا ڈیٹا عوام یا حکومت سے شیئر نہیں کر رہے اور نہ ہی انہوں نے لیکس میں موجود تمام ناموں کی فہرست شائع کی۔ اس حوالے سے جنوبی جرمن کے اخبار سڈڈیچچ زیتوننگ(یس زیڈ) کے صحافی فیڈرک اوببرمی نے بتایا کہ نہ ہی ان کا ادارہ اور آئی سی آئی جے کسی ملک کو دستاویز فراہم کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس زیڈ کا ریاستی اداروں یا ٹیکس حکام کے ساتھ مل کر حکومتی کے لیے کام کرنا صحافتی اصولوں کے خلاف ہے، ریاست کے پاس تحقیقات کرنے کے لیے دیگر بہت سے ذرائع موجود ہیں۔ ایس زیڈ پیراڈائز پیپز میں شامل تمام ناموں کو شائع نہیں کرے گا، انہوں نے واضح کیا کہ بہت سی کمپنیوں اور افراد کا نام اس لسٹ میں شامل ہے جن کا نام شائع کرنا عوامی دلچسپی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی عوامی شخصیت قانون کی خلاف ورزی کرتی ہے تو اس کا نام عوامی مفاد کی خاطر شائع کیا جائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ آئی سی آئی جے پیراڈائز پیپز کے حوالے سے معلومات اپنے موجودہ ڈیٹا بیس میں بھی شامل کرے گا۔

loading...