اشاعت کے باوقار 30 سال

ملک میں نومبر میں ہی گیس کی قلت شروع

ملک میں نومبر میں ہی گیس کی قلت شروع

اسلام آباد: ملک میں نومبر میں ہی گیس کی قلت شروع ہو گئی، ملک میں 700 ایم ایم سی ڈی ایف تک پہنچ گیا کے پی کے اور پناب کی عوام کو گیس کی لوڈشیڈنگ کا سامنا جبکہ دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی مین وزیر اعظم کے صوابدیدی فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم پر تشویش کا اظہار کیا چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ صوابدیدی فندز صرف ضلع مانسہرہ پر ہی خرچ کرنا ناانصافی ہے تمام اضلاع کو برابری کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے ذیلی کمیٹی کا اجلاس سوموار کو کنونیئر کمیٹی نثار محمد خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا چیئرمین کمیٹی نے گیس نکالنے والے علاقوں کو گیس کی فراہمی نہ کرنے پر بھی اظہار برہمی کیا جن علاقوں میں گیس نکلتی ہے پہلا حق ان کا ہے جن کا گیس پیداواری علاقہ ہے وہاں کے مکینوں کو گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے کمیٹی نے گیس حوالے سے مالاکنڈ میں جاری منصوبوں کا جائزہ لینے کے لئے دورے کا فیصلہ کیا چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایس ڈی پیز کے 250 ارب روپے مخصوص علاقوں میں خرچ کرنا درست نہیں ہے پورے ملک کو برابری کی آنکھ سے دیکھا جانا چاہیے ایم ڈی سوئی نادرن گیس نے کمیٹی کو بتایا کہ گھریلو صارفین کی مشکلات کم کرنے کے لئے کوشس کر رہے ہیں کہ صارفین کو صبح اور شام میں بلاتاخیر گیس کی فرہامی یقینی بنائی جائے ملک میں گیس کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ایل این جی پر نظر رکھی ہے امید ہے کہ 20 نومبر سے دوسرا ایل این جی ٹرمینل مکمل ہو جائے گا بند ہونے والے سات پاور پلانٹس کو جلد گیس کی فراہمی شروع کر دیں گے پاور پلانٹس کو گیس کی فراہمی سے لوڈشیڈنگ میں کمی واقع ہو گی اور مردان سے سوات تک ایک ہزار کلومیٹر گیس پائپ لائن کے منصوبے کا 49 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے ایس این جی پی ایل کے پاس تیس کروڑ روپیہ نئے صارفین کو سہولیات کی فراہمی کے لئے موجود ہوتا ہے ملک میں نئے علاقوں میں گیس کی فراہمی کا فیصلہ حکومت کرتی ہے اور ایس این جی پی ایل اس پر کام کرتی ہے جس میں کمیٹی نے کہا کہ اس کا مقصد ہے اگر کسی ممبر قومی اسمبلی کی پہنچ وزیر اعظم تک نہیں ہے تو اس کے علاقے میں پچاس سال تک گیس نہیں پہنچ سکتی کمیٹی نے استفسار کیا کہ جن علاقوں میں گیس نکلتی ہے ان کو پہلے گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور یہ ہمارا آئین بھی کہتا ہے۔

loading...