اشاعت کے باوقار 30 سال

شہزادہ ولید بن طلال کو گرفتار کر لیا گیا

شہزادہ ولید بن طلال کو گرفتار کر لیا گیا

ریاض: سعودی عرب میں کرپشن اور منی لانڈرنگ پر 11 شہزادوں، 4 وزرا اور درجنوں سابق وزرا کو گرفتار کر لیا گیا ہے، لیکن اب انکشاف ہوا ہے کہ گرفتار کیے گئے شہزادوں میں سعودی عرب کے امیر ترین شخص شہزادہ ولید بن طلال بھی شامل ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں گرفتاریوں کے بعد مملکت میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے تاہم ولید بن طلال کی گرفتاری دنیا بھر کے کاروباری افراد کے لئے پریشان کن ثابت ہوئی ہے۔ شہزادہ ولید بن طلال سرمایہ کار کمپنی کنگڈم ہولڈنگ کے مالک اور دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل ہیں، انہوں نے نیو کارپوریشنز، سٹی گروپ اور ٹوئٹر سمیت دنیا کی دیگر بڑی کمپنیوں میں سرمایہ کار کر رکھی ہے، اس کے علاوہ وہ ایک انٹرنیشنل ٹی وی نیٹ ورک کے مالک بھی ہیں۔ ولید بن طلال نے کچھ عرصہ پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ان کا نیویارک میں واقع پلازہ ہوٹل خریدا تھا، وہ ایک مہنگی کشتی بھی ٹرمپ سے خرید چکے ہیں تاہم 2015 میں انتخابی مہم کے دوران انہوں نے ٹرمپ کے خلاف ٹویٹ کر کے انہیں امریکہ کے لئے باعثِ شرمندگی قرار دیا تھا۔ واضح رہے کہ شہزادہ ولید بن طلال سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کے چھوٹے بھائی طلال بن آل سعود کے بیٹے ہیں، انہیں فوربز میگزین کی طرف سے ٹاپ 10 ارب پتی افراد میں شمار کیا جاتا ہے، اس کے علاوہ ولید بن طلال دنیا کے ساتویں سب بے بڑی خیرات کرنے والے شخص بھی ہیں، انہوں نے بیک وقت ساڑھے 3 ارب ڈالر فلاحی کاموں کے لئے وقف کیے تھے، وہ بلا شرکتِ غیرے گزشتہ کئی سال سے سعودی عرب کے امیر ترین شخص ہیں۔ شہزادہ ولید بن طلال کی گرفتاری کی خبر امریکی میڈیا کی جانب سے جاری کی گئی ہے تاہم سرکاری طور پر ان کی گرفتاری کی تصدیق نہیں ہوئی، شہزادہ ولید کی گرفتاری کے باعث عالمی سطح پر سرمایہ کاروں میں تشویش پائی جاتی ہے، اگر ان کی گرفتاری کی خبر کی تصدیق ہو گئی تو عالمی سرمایہ کاری کی مارکیٹ میں بھونچال آ سکتا ہے۔

loading...