اشاعت کے باوقار 30 سال

احتساب کے بغیر کوئی بھی ملک نہیں چل سکتا

احتساب کے بغیر کوئی بھی ملک نہیں چل سکتا

کراچی: چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ احتساب کے بغیر کوئی بھی ملک و معاشرہ نہیں چل سکتا ، احتساب کے عمل کو معنی خیز بنانے کے لئے سیاست دانوں سمیت سب کا بلا امتیاز احتساب ہونا چاہیے ، افسوس کی بات ہے ریاست پرویز مشرف کو عدالت میں نہ لے سکی اور وہ آج باہر بیٹھ کر پاکستانی سیاست پر تبصرہ کرتا پھر رہا ہے ،عام انتخابات وقت پر ہی ہوں گے اور 2018ء میں ایک اسمبلی دوسری منتخب اسمبلی کو اقتدار منتقل کر دے گی۔ کراچی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے میاں رضا ربانی نے کہا کہ احتساب کے بغیر کوئی بھی معاشرہ اور ملک نہیں چل سکتا اور احتساب کے حوالے سے آئین میں شقیں موجود ہیں اور ہم نے ایک احتساب کمیٹی بھی اس حوالے سے بنائی تھی اور اس کو خط بھی لکھا تھا اگر احتساب کے عمل کو بہتر اور معنی خیز بنانا ہے تو بلا امتیاز احتساب ہونا چاہیے اور آئین کے تحت سول و ملٹری شخصیات سمیت سب کا بلا امتیاز احتساب کیا جائے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں بھی احتساب کا عمل موجود ہے اور سینٹ پہلا ہاؤس ہے جس میں سینیٹرز کا احتساب ہو گا اور سینیٹرز نے بھی خود کو احتساب کے لئے پیش کر دیا ہے ۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں کہا کہ میرا عہدہ ایسا ہے کہ میں سیاست پر بات نہیں کر سکتا۔ اٹھارہویں ترمیم کے آرٹیکل چھ کے اندر ترمیم لائی گئی تاکہ مارشل لاء کا راستہ روکا جائے لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ ریاست پرویز مشرف کو عدالت تک نہ لے جا سکی اور اسے باہر جانے کا موقع فراہم کر دیا اور وہ آج باہر بیٹھ کر دہشت گردی پاکستانی سیاست اور سیاست دانوں پر تبصرہ کرتا پھر رہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کو پاکستان لانے میں پرویز مشرف کا بڑا کردار ہے جو ایک امریکی فون کال پر جھک گیا تھا ۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف جو آپریشن ماضی میں کئے گئے اور جو اب جاری ہے ان میں پاک فوج اور سکیورٹی اداروں کو خاطر خواہ کامیابیاں ملی ہیں تاہم یہ گوریلا جنگ ہے جس میں یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ دہشت گردی ختم ہو چکی ہے مگر کافی حد تک اس پر قابو پانے میں ہمارے سکیورٹی ادارے کامیاب ہوئے ہیں اس جنگ کا خاتمہ اتنی جلد ممکن نہیں تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی و عسکری قیادت ایک پیج پر ہیں اور اس حوالے سے سیاسی و عسکری قیادت میں کوئی اختلاف یا تنازعہ نہیں بلکہ تمام قیادت دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کوششیں کر رہی ہے۔

loading...