اشاعت کے باوقار 30 سال

القاعدہ کا خاتمہ پاکستان کی کوششوں اور تعاون سے ممکن ہوا

 القاعدہ کا خاتمہ پاکستان کی کوششوں اور تعاون سے ممکن ہوا

نیویارک: اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ خطے میں القاعدہ کاخاتمہ پاکستان کی کوششوں اور دیگر ملکوں کے تعاون سے ممکن ہوا۔ دہشت گردی اور سائبر کرائم جیسے خطرات کوئی ملک تنہا دور نہیں کر سکتا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے چین کے صدر شی جن پنگ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مشترکہ مستقبل کی حامل کمیونٹی بنانے کا نظریہ عالمی امن کے لیے انتہائی اہم ہے۔ غیر ملکی نیوز ایجنسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ چینی صدر کا نظریہ صرف چند نہیں بلکہ تمام اقوام کی خوش حالی اور ترقی کا سبب بنے گا۔ واضح رہے کہ حال ہی میں چینی صدر شی جن پنگ کا نام اور نظریہ حکمران جماعت کمیونسٹ پارٹی نے اپنے آئین میں شامل کیا تھا۔ ملیحہ لودھی نے انٹرویو کے دوران کہا کہ ایک دوسرے سے جڑی دنیا میں کوئی بھی ملک یا ملکوں کا گروہ سیکیورٹی کے مسائل، دہشت گردی اور سائبر کرائم جیسے خطرات کو دور نہیں کر سکتا' انہوں نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا فلیگ شپ پراجیکٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 3 بر اعظموں اور 60 ممالک پر پھیلا چین کا ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ ساڑھے 4 ارب افراد کے لیے ہے اور اقتصادی راہداری سے چین، جنوب اور وسط ایشیا کے 3 ارب افراد کو بھی فائدہ ہو گا۔ ملیحہ لودھی کا مزید کہنا تھا کہ علاقائی رابطے، تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے سے اربوں افراد کی زندگی بہتر ہو گی۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) کو پاکستان کے لیے 'گیم چینجر' قرار دیا جا رہا ہے، 50 ارب ڈالرز سے زائد مالیت کے اس میگا پراجیکٹ کے تحت سڑکوں، ریلویز اور توانائی کے متعدد منصوبوں کا آغاز کیا گیا ہے۔

loading...