اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

جونز ٹاؤن میں اجتماعی خود کشی

زرداری کسی اور کو خوش کرنے کے لیے مجھے گالیاں دے رہے ہیں

زرداری کسی اور کو خوش کرنے کے لیے مجھے گالیاں دے رہے ہیں

اسلام آباد: سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ آصف زرداری کسی اور کو خوش کرنے کے لیے مجھے گالیاں دے رہے ہیں،ہمارے خلاف ٹکراؤ کی باتیں ہو رہی ہیں لیکن جو ہم سے ٹکرا رہے ہیں اس پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں، دہشت گردی اور لوڈشیڈنگ کے خاتمے اور سی پیک منصوبہ بنانے کی سزا دی جا رہی ہے ۔ احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں نواز شریف نے کہا کہ اس وقت ملک میں جو صورت حال ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ مجھے دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مجھے سی پیک کی سرمایہ کاری لانے یا کراچی میں امن لانے کی سزا دی جا رہی ہے؟ سابق صدر آصف زرداری سے متعلق سوال پر سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ آصف زرداری جو مجھے گالیاں دے رہے ہیں وہ در اصل کسی اور کو خوش کرنے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے سب کے سامنے ہے، میں نے جو بھی کیا اور جو کوششیں کیں وہ بھی سب کے سامنے ہیں۔ کمرہ عدالت میں صحافیوں سے گفتگو میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان کی معیشت کو ٹھیک کیا، ملک میں ریکارڈ ترقی ہوئی اور ریزروز میں اضافہ ہوا، اسٹاک ایکسچینج تاریخ میں کبھی اتنی بلند سطح پر نہیں گئی۔ انہوں نے کہا کہ کیا یہ کرپشن کیس ہے؟ کسی سے کِک بیکس وصول کیے یا ٹھیکے میں پیسے لیے؟ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کس چیز کے لیے پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ تمام جمہوری پارٹیوں کو ایک اصول پر اکٹھا ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ٹکراؤ کی باتیں ہوتی ہیں لیکن دوسروں کا جو ہم سے ٹکراؤ ہوتا ہے اس پر بات نہیں ہوتی۔ نواز شریف نے کہا کہ کوئی این آر او نہیں ہورہا، ماضی میں پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کے درمیان این آر او ہوا، 70سال سے ٹیکنو کریٹس کی حکومت کی باتیں سنتا آ رہا ہوں، یہ کسی کی خواہش ہو سکتی ہے جو پوری نہیں ہو سکتی۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آزاد اور خود مختار عدلیہ کا بڑا حامی ہوں، آمروں کے گلے میں ہار پہنانے والی اور نظریہ ضرورت ایجاد کرنے والی عدالت کو سپورٹ نہیں کرتا، جب عدلیہ خود انصاف کے تقاضوں کو نہ پورا کرے تو بھی توہین ہوتی ہے، توہین عدالت باہر اور اندر دونوں طرف سے ہوتی ہے جب کہ میڈیا قوم کو فرق بتائے کہ آمروں سے اور سول حکومتوں سے عدالتوں کا کیا رویہ ہوتا ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں ججوں کے خلاف اوپن ٹرائل کے سوال پر نواز شریف نے کہا کہ عدالتوں کی کارروائی اوپن ہونی چاہیے، وقت آ گیا ہے کہ ہر چیز کھل کر سامنے آئے، چھپ چھپا کے جو چیزیں ہوتی ہیں تو کیا ہوتا ہے وہ سامنے آ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب کے سینکڑوں ریفرنسز ہیں کسی پر نگراں جج نہیں بیٹھا ہوا، میرے کیسز میں سپر جج کیوں نگرانی کر رہا ہے؟ میں انصاف کے لیے لڑ رہا ہوں اور پیشیاں بھگت رہا ہوں، ریفرنسز کا ایک ایک لفظ پڑھا ہے جس میں صرف کاروبار کے گرد باتیں گھوم رہی ہیں، وکلا کنونشن میں 12 سوالات کیے ایک کا بھی جواب نہیں آیا۔خاندان میں اختلاف کے سوال پر نواز شریف نے کہا کہ خاندان میں کسی قسم کا اختلاف نہیں، یہ باہر بیٹھے لوگوں کی خواہش ہو سکتی ہے۔

loading...