اشاعت کے باوقار 30 سال

موٹر بائیک ایمبولینس سروس میں مزید گھپلوں کا انکشاف

موٹر بائیک ایمبولینس سروس میں مزید گھپلوں کا انکشاف

لاہور: پنجاب حکومت کی جانب سے گزشتہ ماہ موٹر بائیک ایمبولینس سروس میں مزید گھپلوں کا انکشاف ہوا ہے۔ نجی چینل کا اپنے ذرائع کے حوالے سے دعوی ہے کہ موٹربائیک ایمبولینس سروس کے لئے سافٹ ویئر انتہائی مہنگے داموں خریدا گیا،جب کہ یہ ایک ہی سافٹ ویئر کو مختلف اضلاع کےلیے 100 بار خریدا گیا، سافٹ وئیر کی مد میں 2 کروڑ 30 لاکھ سے ز ائد کی ادائیگیاں کی گئیں۔ دوسری طرف ایمبولینس سروس کی مانیٹرنگ کے لئے منگوائی گئی ویڈیو وال بھی جواب دے گئی، اس کے کچھ پرزے ایک ماہ بعد ہی کام کرنا چھوڑ گئے، وال ایک کروڑ 14 لاکھ روپے میں خریدی گئی تھی۔ ظلم کے اوپر ظلم یہ ہے کہ ایمبولینس سروس میں خورد برد کے ا نکشافات پر بنائی گئی کمیٹی نے تحقیقات سے انکار کر دیا، اعلی حکام نے گھپلوں کی تحقیقات وزیر اعلی انسپکشن ٹیم سے کرانے کی تجویز دی ہے۔

loading...