اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

جونز ٹاؤن میں اجتماعی خود کشی

نیب میں جان پڑی تو کرپٹ اشرافیہ کی جان نکل گئی

نیب میں جان پڑی تو کرپٹ اشرافیہ کی جان نکل گئی

لاہور: پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ نیب میں جان پڑی تو کرپٹ اشرافیہ کی جان نکل گئی۔ نااہل شخص کو پارٹی صدر بنانے کی بدنام زمانہ ترمیم کے بعد اب ایک خاندان کی کرپشن کو تحفظ دینے اور انہیں سزاؤں سے بچانے کے لئے نیب کو ختم اور ریموٹ کنٹرول احتساب کمیشن لایا جا رہا ہے۔ نیب کے بعد سپریم کورٹ، پھر فوج کی باری آئے گی، گاڈ فادر اداروں سے انتقام لینا چاہتا ہے۔ امید ہے اس قانونی دہشت گردی سے قبل ہی اشرافیہ اپنے انجام کو پہنچ جائے گی۔ وہ گزشتہ روز پارٹی کے سینئر رہنماؤں سے ٹیلی فون پر خطاب کر رہے تھے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ دنیا بھر میں احتساب کے لیے سخت اور خصوصی قوانین بنتے ہیں، چین میں کرپشن پر موت کی سزا دی جاتی ہے، گزشتہ دس سال میں دس لاکھ چینیوں کو کرپشن پر سزائے موت دی گئی مگر پاکستان میں کرپشن مافیا قانونی دہشت گردی کے ذریعے احتساب کے قانون اور ادارے ختم کر رہا ہے، کرپشن کنگز ہر حال میں احتساب کا پہیہ روکنا اور خود کو بچانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتساب کی خصوصی عدالتیں اور قوانین ختم ہوئے تو قیامت تک کوئی ادارہ لٹیروں کا احتساب نہیں کر سکے گا۔ مجوزہ احتساب کمیشن کی حیثیت حکمران جماعت کی پارلیمانی پارٹی جیسی ہو گی جس کا ریموٹ کنٹرول وزیراعظم کے ہاتھ میں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ احتساب کمیشن میں یہ قانون شامل کیا جا رہا ہے کہ جس کرپشن کیس کا فیصلہ دس سال میں نہیں ہو سکے گا تو کرپشن کے اس مقدمے کو بند کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون منظور ہوتے ہی شریف خاندان کو فائدہ پہنچے گا کیونکہ ان کے خلاف دائر کرپشن کے ریفرنسز دس سال پرانے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ احتساب کمیشن بل میں یہ قانون بھی شامل کیا جا رہا ہے کہ کرپشن ریفرنسز فائل ہونے کے بعد سپریم کورٹ سمیت کوئی بھی عدالت نوٹس لینے کی مجاز نہیں ہو گی۔ اگر لٹیرے ان ناپاک ارادوں میں کامیاب ہو گئے تو یہ سپریم کورٹ کے اختیارات پر سب سے بڑا حملہ ہو گا۔ دوران تحقیقات غلط بیانی یا غلط دستاویزات جمع کروانے پر احتساب کمیشن ملزمان کی درخواست پر معافی بھی دے سکے گا اس کا فائدہ بھی شریف برادران کو پہنچے گا کیونکہ انہوں نے پاناما لیکس کیس میں سپریم کورٹ میں جعلی دستاویزات جمع کروائیں جن پر ابھی فیصلے آنے باقی ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ مجوزہ ڈارفٹ میں یہ قانون بھی شامل کیا جا رہا ہے کہ اچھی نیت کے ساتھ کیے گئے کسی بھی اقدام پر وفاقی و صوبائی حکمرانوں کے خلاف کوئی کیس دائر ہو سکے گا اور نہ ہی پراسیکیوشن ہو سکے گی یعنی حکمران سیاہ کریں یا سفید وہ اچھی نیت کا اعلان کر کے ہر قسم کی گرفت سے مبرا ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مہذب دنیا میں ایسے شرمناک قوانین بنانا دور کی بات ایسی رائے کے اظہارپر بھی وہاں کے عوام حکمرانوں کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیں۔

loading...