اشاعت کے باوقار 30 سال

اسحاق ڈار کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد

اسحاق ڈار کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد

اسلام آباد: اسلام آباد احتساب عدالت نے وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کی عدالت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔ اسحاق ڈار کے خلاف اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے آمدنی سے زائد اثاثے رکھنے کے حوالے سے قومی احتساب بیورو(نیب) کی جانب سے دائر ریفرنس کی سماعت کی۔سماعت کے آغاز کے دوران اسحاق ڈار کے وکیل خواجہ حارث کی عدم پیشی کی وجہ سے ان کی معاون وکیل عائشہ حامد نے کیس کی پیروی کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ خزانہ کی بیرونِ ملک ہسپتال کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جس کے مطابق وزیرِ خزانہ اس وقت بیمار ہیں اور 4 منٹ سے زیادہ کھڑے نہیں رہ سکتے۔ عدالت کے سامنے پیش کی جانے والی میڈیکل رپورٹ میں مزید لکھا تھا کہ اسحاق ڈار دل کے عارضے میں بھی مبتلا ہیں جبکہ ڈاکٹروں نے انہیں انجیوگرافی کروانے کی تجویز دی ہے۔ نیب استغاثہ نے اسحاق ڈار کی میڈیکل رپورٹ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ 'میڈیکل رپورٹ کسی نجی ہسپتال سے بنوائی گئی ہے جبکہ اسے عدالت کے قوانین کے تحت بھی عدالت میں جمع نہیں کروایا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 'میڈیکل رپورٹ کو عدالت میں دفتر خارجہ کی جانب سے جمع کروایا جانا تھا جو انہیں برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے موصول ہونی تھی۔ سماعت کے دوران نیب استغاثہ نے استدعا کی کہ عدات نیب کو اسحق ڈار کے بیرونی ممالک میں موجود اثاثوں کو منجمد کرنے کی اجازت دے۔ اسحاق ڈار کی جونیئر وکیل عائشہ حامد نے دعوی کیا کہ نیب استغاثہ اسحق ڈار کے جن اثاثوں کو منجمد کرنے کی بات کر رہے ہیں وہ دبئی میں ہیں جو بیرونِ ملک ہونے کی وجہ سے عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا سے اسحاق ڈار کے نام پر موجود چار بینک اکاونٹس میں سے صرف ایک بینک اکاونٹ استعمال میں ہے جس میں 2 کروڑ روپے موجود ہیں جبکہ دیگر اکاونٹ میں 2 سو 32 روپے، 10 روپے اور 1 ہزار نو سو نوے روپے موجود ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نیب نے ان اثاثوں کو بھی منجمد کرنے کا کہا ہے جو اثاثے اسحاق ڈار پہلے ہی فروخت کر چکے ہیں جس پر استغاثہ کا کہنا تھا کہ نیب کے پاس اثاثوں کو 15 دن تک منجمد کرنے کا اختیار موجود ہے۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس متحدہ عرب امارات میں شہریوں کے اثاثوں کو منجمد کرنے کا اختیار نہیں لیکن عدالت اماراتی حکومت کو اثاثے منجمد کرنے کی دراخواست بھیج سکتی ہے۔ نیب پراسیکیورٹر کا کہنا تھا کہ 'عدالت یو اے ای حکومت کو درخواست بھیجے گی جبکہ وہاں کی مقامی عدالت اس پر اپنا فیصلہ سنا سکتی ہے'۔ یاد رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار کے خلاف نیب کی جانب سے آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں دائر ریفرنس کی آٹھویں سماعت میں عدم پیشی پر اسحق ڈار کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے تھے۔ اس سے قبل اسحق ڈار 23 اکتوبر کو عدالت میں پیش ہوئے تھے جہاں نجی بینک کے ملازمین عبدالرحمن گوندل اور مسعود غنی نے عدالت کے سامنے اپنے بیانات قلمبند کرائے تھے۔ واضح رہے کہ 16 اکتوبر کے دوران عدالت نے اسحق ڈار کے وکلا کی جانب سے ان کے استثنی کی درخواست دائر کی گئی تھی جسے عدالت نے مسترد کر دیا تھا۔ خیال رہے کہ 12 اکتوبر کو 8 گھنٹے طویل سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر کی جانب سے پیش کیے جانے والے گواہان، البرکہ بینک کے نائب صدر طارق جاوید اور نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ کے سربراہ شاہد عزیز نے عدالت کے سامنے اپنے بیانات قلمبند کرائے تھے۔

loading...