اشاعت کے باوقار 30 سال

شریف خاندان کے خلاف کچھ نہیں ملا

شریف خاندان کے خلاف کچھ نہیں ملا

اسلام آباد: سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ پارٹی پالیسی پر بیان دینے کا اختیار صرف پارٹی کی سینیئر لیڈرشپ کو ہے، پارٹی پالیسی پر بیان نہ دینے کا فیصلہ مجھ تک نہیں پہنچا، میں نے پارٹی میں سنیارٹی کبھی عبور نہیں کی، بدھ کے روز نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا پارٹی میں کسی انکل کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں اور نہ کسی سینیئر انکل کو مجھ پر اعتراض ہونا چاہئے، ہو سکتا ہے کہ کوئی دوسرا اس نظر سے جیتروں کو نہ دیکھتا ہو جیسے میں دیکھتی ہوں، والد سے ابھی بھی ڈانٹ پڑ جاتی ہے، ان کی ڈانٹ میری بھائی کے لئے ہوتی ہے، مجھے ان کی ڈانٹ سے فائدہ ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو عدالتوں کا سامنا نہ کرنے سے متعلق میری اپنی رائے تھی، والد صاحب کا ایسا کوئی فیصلہ نہیں تھا، مسلم لیگ ن جمہوری پارٹی ہے مجھے رائے دینے کا حق ہے، ہمیں عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں، جے آئی ٹی میں وقت ضائع کیا گیا، انہوں نے کہا جے آئی ٹی والیم ٹین میں کچھ بھی نہیں ہے، والیم 10میں جے آئی ٹی نے اپنی ناکامی چھپائی، والیم 10میں یہی ہے کہ شریف خاندان کے خلاف کچھ نہیں ملا، کسی بھی ملک سے جے آئی ٹی کو جواب نہیں ملا، اگر کچھ ملتا تو اقامہ پر فیصلہ نہ ہوتا، مریم نواز نے کہا کہ ہمارے وکلاء نے کیس بہت اچھا لڑا ہے، ہم نے اپنے اثاثوں کے بارے میں بتایا کیا یہی ہمارا جرم ہے، اگر ہم پر الزامات کیں صداقت ہوتی تو 10ہزار بیٹے سے نہ لینے پر وزیر اعظم کو نا اہل نہ کیا جاتا، یہ سلسلہ دو تین سال پہلے سے شروع ہوا، میرے خلاف باتیں تب شروع ہوئیں جب میرے والد پر حملے شروع کیے گئے، میں دیوار بن کر کھڑی ہو گئی، مجھے ڈان لیکس میں بھی ملوث کیا گیا، ڈان لیکس کے ذمہ داران انجام کو پہنچ گئے، میں ڈان لیکس کے ذمہ دار کا نام نہیں لوں گی، میں کبھی پبلک آفس ہولڈر نہیں رہی میرے خلاف کیسز سمجھ سے باہر ہیں، میں ڈرنے والی نہیں، انہوں نے کہا کہ انسان ڈرتا نہ ہو، اس کے ساتھ ڈیل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اس لیے کبھی نیب سے ڈرایا جا رہا ہے، فیصلہ کرنے والے منصفوں کو بھی کبھی نہ کبھی جواب دینا پڑے گا، منصفوں نے فیصلہ لکھا ہوا سنایا یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو حادثات و واقعات نے نظریاتی بنایا پر نواز شریف کی ہمیشہ کوشش رہی کہ ملک ترقی کرے، نظام کو نقصان نہ پہنچے، اس لیے انہوں نے سمجھوتے کیے، انہیں یہ سمجھوتے نہیں کرنے چاہئیں تھے، ان کے سمجھوتوں کو کمزوری سمجھا گیا، نواز شریف کو اصولوں پر سمجھوتا نہیں کرنا چاہئے تھا، مریم نواز نے کہا کہ جو لوگ این آر او کی بات کر رہے ہیں، وہی جواب دیں کہ این آر او کس سے ہو گا اور دوسرا فریق کون ہے جس سے این آر او مانگا جا رہا ہے اور جو این آر او دے رہا ہے، نواز شریف سے پوچھ کر بتاؤں گی کہ این آر او ہو رہا ہے، نواز شریف کو کسی این آر او کی ضرورت نہیں، نواز شریف کے پاس عوام کی طاقت ہے، انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے ماضی کی ٖغلطیوں سے سیکھا، نواز شریف 2013ء سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ میمو گیٹ معاملہ سپریم کورٹ لے جانا غلطی تھی، ابھی بھی آپشنز سارے نواز شریف کے پاس ہیں، آصف زرداری کو نواز شریف کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، نہ جانے آصف زرداری کیوں استعمال ہو رہے ہیں، پارٹی پالیسی بنانا میرا کام نہیں ہے، میں اپنے دل کی بات کرتی ہوں، میاں نواز شریف نے نا اہلی کے بعد اپنا پیغام عوام تک پہنچایا ووٹ کے تقدس کا پیغام دیا، عوام نے انہیں پزیرائی دی، کسی ایک ادارے کے بجائے سب اداروں کا احترام ہونا چاہئے، پارلیمنٹ سب سے قابل احترام ادارہ ہے، پارلیمنٹ کی بھی دوسرے اداروں کی طرح عزت ہونی چاہئے، مریم نواز نے کہا کہ چوہدری نثار نے ہمدردی میں بات کہی ہو گی مجھے ان کی باتوں پر اعتراض نہیں، ہمارے خلاف فیصلہ غصے اور عجلت میں کیا گیا، ہمارے خلاف انصاف کا معیار یہ ہے کہ اگر ہم فیصلے پر تنقید کریں گے تو انصاف نہیں ملے گا، انہوں نے کہا کہ این اے 120 میں حمزہ شہباز نے بھی کردار ادا کیا، حمزہ شہباز ذاتی مصروفیات کی بنا پر ملک سے باہر گئے تھے اس لئے این اے 120 کی الیکشن مہم میں حصہ نہیں لیا نا اہلی کے بعد مائنس ون کی باتیں کی جا رہی ہیں، اس کا مطلب ہے کہ مقصد پورا نہیں ہوا، این اے 4 میں میڈیا کو رسائی نہیں دی گئی، اس کا مطلب ہے کہ کچھ کالا تھا، انہوں نے کہا کہ ووٹر بہت ذہین ہیں، این اے 120 میں مجھے پتا چلا کہ عوام کو سب پتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے، پچھلے چار سال میں جو کام ہوئے وہ عوام کے سامنے ہیں، نواز شریف کے خلاف کیسز کی کوئی حقیقت نہیں، پانامہ نہ منی لانڈرنگ کا ایشو تھا نہ اختیارات کے ناجائز استعمال کا معاملہ تھا اور نہ کرپشن کا معاملہ تھا، ذائی کاروبار کے خلاف کیس چلائے جا رہے ہیں، اس کی مثال پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں نہیں ملے گی، انصاف کا قتل عام ہوا، جو ساری دنیا نے دیکھا، نواز شریف پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں لگایا گیا۔

loading...