اشاعت کے باوقار 30 سال

مقبوضہ کشمیر کی قابض انتظامیہ کا نیا آرڈیننس مسترد

مقبوضہ کشمیر کی قابض انتظامیہ کا نیا آرڈیننس مسترد

سرینگر: مقبوضہ کشمیر میں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے قابض انتظامیہ کی طرف سے جاری کیا جانے والا نیا آررڈیننس مسترد کر دیا ہے جس کے تحت احتجاج کی کال دینے والوں کو جیل اور جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے گورنر این این ووہرا نے ایک آرڈیننس جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ احتجاج کی کال دینے والو ں کو دو سے پانچ برس کی قید کی سزا دی جائے گی اور جرمانہ کیا جائے گا۔ مزاحمتی قیادت نے سرینگر میں جاری ایک بیا ن میں کہا کہ پرامن احتجاج ریکارڈ کرانے کے لئے ہڑتال عالمی سطح پر تسلیم شدہ ایک جمہوری حق ہے اور حریت قیادت اس طرح کے جابرانہ آرڈیننسوں کے باوجود اس جمہوری حق کا استعمال کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ کالے قوانین کے نفاذ سے کشمیریوں اور ان کی قیادت کو جبری تسلط تسلیم کرنے پر ہرگز مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ مزاحمتی رہنماؤں نے کہا کہ کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کشمیریوں پر ظلم و جبر کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 8 جولائی 2016 سے اب تک سینکڑوں افراد کو شہید، ہزاروں کو زخمی جب کہ سینکڑوں کشمیریو ں کو بصارت سے محروم کیا گیا نوجوانوں کے ساتھ ساتھ معمر افراد حتیٰ کہ کم عمر لڑکوں کو بھی جیلوں، تھانوں اور تفتیشی مراکز میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ قابض انتظامیہ نے قابض فورسز کو گھروں میں گھس کر عورتوں اور بچوں سمیت مکینوں کی مارپیٹ اور گھریلو اشیا کی توڑ پھوڑ کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے اور اس طرح سے کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیاکہ اس ریاستی دہشت گردی کے خلاف پر امن احتجاج کا طریقہ اپنانے والوں کو ظالمانہ اقدامات کے ذریعے دھمکانے اور مرعوب کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن مزاحمتی قیادت کو اس طرح کے حربوں سے ہرگز مرعوب نہیں کیا جا سکتا اور نہ کشمیری عوام کی جائز آواز کا گلا گھونٹا جا سکتا ہے۔

loading...