اشاعت کے باوقار 30 سال

بھارتی مسلمان ایک دفعہ پھر ہندو انتہا پسندی کے نشانے پر

بھارتی مسلمان ایک دفعہ پھر ہندو انتہا پسندی کے نشانے پر

آگرہ: بھارت کی سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس) نے تاج محل سے متصل مسجد میں نماز پڑھنے پر پابندی کا مطالبہ کر دیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق آر ایس ایس کے رہنما بال مکنڈ پانڈے نے تاج محل سیمتصل شاہ جہانی مسجد میں مسلمانوں کے لیے نماز کے دروازے بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاج محل کو قومی ورثہ ہونے کے ناطے اسے مذہبی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے اورتاج محل کے احاطے میں نماز کی ادائیگی پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ بال مکنڈ پانڈے نے کہا کہ کس بنیاد پر مسلمانوں کو تاج محل میں نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے اگر تاج محل میں نماز کی ادائیگی پر پابندی نہ لگائی گئی تو ہندوؤں کوبھی یہاں پوجا کرنے کی اجازت دی جائے، نماز کے لیے تاج محل کے دروازے کھلے ہیں تو ہندوؤ کو بھی مذہبی رسومات کی ادائیگی کی اجازت ملنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاج محل کوئی محبت کی نشانی نہیں بلکہ تاج محل پہلے شیو مندر تھا جسے ایک ہندوراجا نے تعمیر کرایا تھا اور اس حوالے سے ثبوت بہت جلد منظر عام پر لائے جائیں گے۔ دوسری جانب تاج محل سے متصل شاہ جہانی مسجد کے پیش امام صادق علی نے ہندو نظریاتی جماعت کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تاج محل دراصل ایک قبرستان ہے اور اس سے منسلک ایک مسجد بھی ہے جہاں نماز ادا کی جاتی ہے اس لیے یہاں شیو چالیسا پوجا نہیں ہو سکتی۔ واضح رہے کہ شاہ جہانی مسجد میں روازنہ پانچ وقت کی نماز باجماعت ادا کی جاتی ہے اور جمعہ کے روز نمازیوں کی بڑی تعداد کے باعث سیکورٹی خدشات کے پیش نظر تاج محل کو کچھ دیر کے لیے بند کر دیا جاتا ہے۔

loading...