اشاعت کے باوقار 30 سال

امریکی وزیر خارجہ کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی

امریکی وزیر خارجہ کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی

نئی دہلی: امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا ہے کہ امریکہ کو اس بات کا خدشہ لاحق ہے کہ انتہاء پسند گروپ حکومت پاکستان کے استحکام اور سیکیورٹی کے لئے خطرے کا باعث ہیں، ٹلرسن جو اسلام آباد میں سرد مہری کا شکار استقبال کے بعد نئی دہلی پہنچے تھے کا کہنا تھا کہ امریکہ کو تشویش ہے کہ پاکستان کے اندر بہت زیادہ انتہاء پسند گروپ محفوظ پناہ گائیں تلاش کر رہے ہیں جہاں سے وہ دیگر ممالک پر حملے کر سکتے ہیں انہوں نے بتایا کہ یہ میرا کھلا نقطہ نظر ہے اور میں نے پاکستان کی قیادت سے اس کا اظہار کیا ہے، ہمیں پاکستان کی حکومت کی سلامتی اور استحکام سے متعلق بھی تشویش لاحق ہے، اس سے پاکستان کی اپنی سلامتی کو خطرہ ہو سکتا ہے، یہ کسی کے مفاد میں نہیں کہ پاکستان کی حکومت غیر مستحکم ہو جبکہ بھارتی وزیر خارجہ ششما سوراج کا کہنا تھا کہ امریکا کی جنوبی ایشیا پالیسی صرف اس صورت میں کامیاب ہو گی جب پاکستان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے گا۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن ایک روزہ دورے پر نئی دہلی پہنچے جہاں انہوں نے بھارتی ہم منصب سشما سوراج سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت اور امریکا فطری اتحادی ہیں اور دہشت گردی کے خلاف ایک ساتھ کھڑے ہیں، امریکا کی افغان پالیسی میں بھارت کا اہم کردار ہے اور ہم خطے میں اس کے قائدانہ کردار کی حمایت کرتے ہیں۔ ریکس ٹلرسن نے کہا کہ دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا، پاکستان میں بہت ساری دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں جو اب پاکستانی حکومت کی سلامتی کے لئے خطرہ بن گئی ہیں، تاہم پاکستانی حکومت کا غیر مستحکم ہونا کسی کے مفاد میں نہیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے بھارت کی فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے بہترین دفاعی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا خطے میں بھارت کے قائدانہ کردار کی حمایت کرتا ہے اور خطے کی سیکورٹی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے اس کی صلاحیتوں کو فروغ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھارتی فوج کو جدید بنانے کے لیے اپنی بہترین ٹیکنالوجی دینے کو تیار ہیں، جب کہ ایف 16 اور ایف 18 جنگی طیاروں کے معاہدے کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔ سشما سوراج نے کہا کہ امریکا کی جنوبی ایشیا پالیسی صرف اس صورت میں کامیاب ہو گی جب پاکستان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریکس ٹیلرسن سے بات چیت کے دوران شمالی کوریا کا معاملہ زیر بحث آیا تھا لیکن انھوں نے امریکی وزیر خارجہ کو بتایا کہ کسی حد تک شمالی کوریا سے رابطہ رکھنا ضروری ہے۔' امریکی وزیر خارجہ کی سشما سوراج سے ملاقات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ان کاوشوں کا حصہ ہے جہاں وہ انڈیا سے معاشی اور سٹریٹیجک روابط بڑھانے کی کوششیں کر رہے ہیں تاکہ خطہ میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے ساتھ مسابقت رکھی جائے۔ دونوں رہنماؤں نے انسداد دہشت گردی کے بارے میں گفتگو کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس کا خاتمہ کیا جائے اور ریکس ٹیلرسن نے کہا کہ امریکہ انڈیا کی ٹیکنالوجی کی ضروریات کو پورا کرے گا۔' امریکہ انڈیا کے ابھرتے ہوئے کردار کی حمایت کرتا ہے اور سیکورٹی فراہم کرنے کی انڈین کوششوں کا ساتھ دینے کے لیے ان کی ہر ممکن مدد کرے گا۔' امریکہ کی شمالی کوریا پر توجہ کی ضرورت اس لیے بھی ہے کیونکہ اگلے ماہ صدر ٹرمپ چین کا دورہ کریں گے جہاں اس بات کی توقع ہے کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات میں شمالی کوریا پر دباؤ بڑھانے پر زور دیں گے، بھارتی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق نئی دہلی حکومت نے اس سال اپریل سے ادویات اور خوراک کے علاوہ ہر طرح کی تجارت پر پابندی لگا دی ہے۔ سوراج کا کہنا تھا کہ ٹلرسن نے بھارتی موقف کو سمجھا اور اس کی تعریف کی۔ واضح رہے کہ سن دو ہزار سولہ اور سترہ کے مالی سال میں بھارت اور شمالی کوریا کے درمیان ایک سو تیس ملین ڈالر کی تجارت ہوئی تھی تاہم رواں مالی سال میں یہ کم ہو کر تقریبا گیارہ ملین ڈالر رہ گئی ہے۔ شمالی کوریا کے جوہری تجربات کی بھر پور مذمت کے باوجود بھارت نے اس کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ خیال رہے کہ خطے میں چین کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکا اور بھارت باہمی تعلقات مضبوط بنا رہے ہیں۔

loading...