اشاعت کے باوقار 30 سال

افغان صدر اور امریکی وزیر خارجہ کی تصاویر میں ہیر پھیر

افغان صدر اور امریکی وزیر خارجہ کی تصاویر میں ہیر پھیر

واشنگٹن: امریکی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ افغانستان میں قائم امریکی بیس میں سیکریٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹلرسن اور افغان صدر اشرف غنی کی ملاقات کے بعد سرکاری طور پر جاری کی جانے والی تصویر میں ہیر پھیر کی گئی ہے جس سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ان کی ملاقات کابل میں ہوئی۔ واضح رہے کہ امریکا کے اعلی ترین سفارتکار نے دو روز قبل افغانستان کا دورہ کیا تھا جہاں ان کی ملاقات افغان صدر اشرف غنی سے بھی ہوئی تھی۔ اس ملاقات کے بعد امریکی سفارت خانے اور افغان صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ ان کی ملاقات کابل میں ہوئی لیکن امریکی اخبار نے اس بات کی نشاندہی کی کہ یہ ملاقات بگرام کے ایئر بیس میں ہوئی جو کابل سے 30 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ ایک اور امریکی چینل کا کہنا تھا کہ ریکس ٹلرسن اور اشرف غنی کی ملاقات کو ملٹری بیس کے بجائے کابل میں دکھانے کا مقصد افغانستان کی سیکیورٹی کی صورتحال کا دنیا پر مثبت اثر ڈالنا تھا۔ تصویر میں رد و بدل کی نشاندہی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے کی گئی تھی جس کے بعد نیویارک ٹائمز نے ان تصاویر پر تحقیقات کا آغاز کیا۔ دونوں تصویر کو سافٹ ویئر کے ذریعے قریبی مشاہدہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو تبدیل کیا گیا ہے، دونوں امریکی اور افغانستان کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے ریکس ٹلرسن اور اشرف غنی اپنے وفود کے ہمراہ ایک کمرے میں بیٹھے ہیں جس کی کوئی کھڑکی نہیں۔ کابل کی جاری کردہ تصویر میں فوج کے زیر استعمال گھڑی اور ایک فائر الارم جو کہ ریکس ٹلرسن کے اوپر لگا ہوا تھا کو تبدیل کیا گیا، جسے امریکا کی جانب سے جاری کردہ تصویر میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

loading...