اشاعت کے باوقار 30 سال

جیلوں میں پانچ بر سوں میں دو ہزار سے زائد قیدیوں کی موت

جیلوں میں پانچ بر سوں میں دو ہزار سے زائد قیدیوں کی موتجیلوں میں پانچ بر سوں میں دو ہزار سے زائد قیدیوں کی موت

لکھنؤ: اتر پردیش میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران جیل میں مختلف الزامات میں بند دو ہزار سے زائد قیدیوں کی موت ہو گئی ہے۔ مرنے والے قیدیوں میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ یہ چونکانے والے حقائق حق اطلاعات قانون کے تحت آگرہ کے سماجی کارکن نریش پارس کے مانگے گئے سوالات کے جواب میں سامنے آئے ہیں ۔ اتر پردیش میں 62 ضلع جیل، پانچ سنٹرل جیل اور تین خصوصی جیل ہیں۔ جیل حکام کے آر ٹی آئی کے کارکن کو فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 2012 اور 2017 کے درمیان 2،665 قیدیوں کی موت ہوئی ۔ ان میں سے 360 قیدیوں کی وفات 2012 میں، 358 کی 2013 میں ، 339 کی 2014 میں ،412 کی 2015 میں 2016، جب کہ رواں سال جنوری سے جولائی تک 188 قیدیوں کی وفات ہوئی۔ آر ٹی آئی کے کارکن مسٹر پارس نے بتایا کہ مرنے والے قیدیوں میں سے نصف سے زیادہ عمردراز تھے۔ ان قیدیوں کے مقدمات عدالت میں زیر التواء ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 10 جنوری، 2013 کو بلند شہر میں جیل میں ایک 106 سالہ خاتون قیدی کی موت ہو گئی تھی جب کہ بستی جیل میں مرنے والے 100 سالہ قیدی کی دسمبر 2016 میں موت ہوئی تھی ۔

loading...