اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

جونز ٹاؤن میں اجتماعی خود کشی

بھارت میں انسانوں اور ہاتھیوں کی خوفناک جنگ

بھارت میں انسانوں اور ہاتھیوں کی خوفناک جنگ

نئی دہلی: مشرقی انڈیا کے گھنے جنگلوں میں ایک ایسی جدوجہد جاری ہے جس میں ایک طرف انسان ہیں تو دوسری جانب ہاتھی۔ اب تک اس تصادم میں ایک ہزار سے زیادہ افراد اور 100 سے زیادہ ہاتھی ہلاک ہو چکے ہیں۔ شمال مشرقی ریاست آسام کے علاوہ اڑیسہ، جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ میں اس لڑائی نے خوفناک صورت اختیار کر رکھی ہے۔ ہاتھی انسانوں پر حملہ کرتے ہیں اور انسان ہاتھیوں پر۔ یہ صورت حال بدستور جاری ہے اور بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ اڑیسہ اور چھتیس گڑھ کی سرحد پر واقع ایک گاؤں میں مدن راٹھیا کے اہل خانہ اب تک صدمے میں ہیں۔ وہ جانور لے کر جنگل میں گئے تھے کہ انھیں ہاتھیوں کے جھنڈ نے کچل کر مار ڈالا۔ ان کے اہل خانہ معاوضے کے منتظر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہاتھیوں کی وجہ سے نہ وہ محفوظ ہیں اور نہ ہی ان کے پالتو جانور۔ ان کے بیٹے بھونیشور راٹھا نے بی بی سی کو بتایا ’بھینسا جنگل کے اندر چلا گیا۔ اس کی تلاش میں والد صاحب اندر گئے ہوں گے۔ بھینسا واپس آ گیا۔ مگر وہ نہیں لوٹے‘۔انھوں نے کہا: ’ہم نے گاؤں والوں کو اکٹھا کیا، جنگل میں گئے تو وہاں ان کی لاش پڑی ملی۔ انتظامیہ نے آخری رسومات کے لیے کچھ رقم دی لیکن ہمیں معاوضے کی باقی کی رقم کا انتظار ہے۔‘ جنگل اور ماحولیات کے وزیر ہرش وردھن نے پارلیمان میں حال ہی میں ایک بیان میں کہا ہے کہ سنہ 2013 سے رواں سال فروری تک ہاتھیوں کے حملوں میں 1465 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسی مدت کے دوران 100 سے زیادہ ہاتھی بھی مارے گئے ہیں۔ جن پر ہاتھیوں کے قتل کا الزام ہے وہ خود کو بے قصور کہتے ہیں۔ چھتیس گڑھ کے جش پور اور اڑیسہ کے سمبل پور کی سرحد کے قریب ایک گاؤں میں ہماری ملاقات شیو پرشاد یادو سے ہوئی جو ایک دن پہلے ہی ضمانت پر رہا ہوئے تھے۔ ان پر ہاتھیوں کے قتل کا الزام ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے جنگل میں جا کر ہاتھی کو نہیں مارا بلکہ وہ ان کے کھیتوں میں مرا تھا۔ شیو پرساد کہتے ہیں ’میرے گھر کے ٹھیک پیچھے کھیت میں پمپ کے لیے بجلی کا تار لگا ہوا تھا۔ اسی پمپ کے سہارے ہم کاشتکاری کرتے ہیں۔ ہاتھی اس تار کی زد میں آیا اور مر گیا۔ محکمہ جنگلات نے ہم پر زبردستی مقدمہ درج کیا اور جیل بھیج دیا۔ بھلا ہمارا اس میں کیا قصور ہے؟‘ گاؤں پر ہاتھیوں کے حملے بڑھ رہے ہیں اور ہاتھیوں پر انسانوں کے۔ یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ ہاتھیوں کی آمدورفت کے راستے میں بڑی بڑی فیکٹریاں بن گئی ہیں یا کانیں ہیں۔ بھونیشور میں مقیم وائلڈ لائف کے ماہر اجیت پانڈے کہتے ہیں ’ہاتھیوں کے راستے میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کی وجہ سے ان کے جھنڈ گاؤں اور شہروں میں آتے ہیں۔ یہیں سے تصادم شروع ہو جاتا ہے‘۔ پانڈے کا کہنا ہے ’اس کے علاوہ جنگلات میں ان درختوں اور گھاس کی کمی ہے جو ہاتھی شوق سے کھاتے ہیں اور وہ یہ کھانے کے لیے گاؤں کی طرف آ جاتے ہیں‘۔ اب ہاتھیوں کی راہ میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کی وجہ سے گاؤں غیر محفوظ ہوتے جا رہے ہیں۔ اسی طرح کا ایک گاؤں پوساوڈیرا ہے۔ گاؤں میں شاید ہی کوئی گھر باقی ہے جس میں ہاتھیوں نے توڑ پھوڑ نہ کی ہو۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ کئی مہینوں کے دوران 35 ہاتھیوں کا ایک جھنڈ بار بار ان کے گاؤں میں آتا ہے اور توڑ پھوڑ کرتا ہے۔ بہت سے ایسے گاؤں والے ہیں جو کئی ماہ سے ٹوٹے ہوئے گھروں میں رہ رہے ہیں۔ یہاں دردناک کہانیوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بار بار گھر کو مرمت کرانے کے لیے ان کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ ہر بار جب وہ گھر کو دوبارہ بناتے ہیں ہاتھیوں کا جھنڈ انھیں توڑ دیتا ہے۔ یہاں رہنے والے قبائلی گجن رام کے پاس ہاتھیوں کے حملوں کے بہت سے قصے ہیں۔ ایک ہفتہ پہلے جب ہاتھیوں نے گاؤں پر حملہ کیا تو وہ سکول کی چھت پر چلے گئے۔ انھوں نے بتایا ’ہم دوڑتے دوڑتے قریبی سکول کی چھت پر چڑھ گئے لیکن ہاتھیوں کا جھنڈ وہاں بھی آ گیا۔ وہ ہم پر سونڈ سے حملہ کرنے لگے۔ جھنڈ میں 35 ہاتھی تھے‘۔ ہاتھیوں سے بچنے کے لیے لوگوں نے راستہ تلاش کر لیا ہے اور انھوں نے اپنے گرد و نواح کے بڑے اور مضبوط درختوں پر پناہ لینی شروع کر دی ہے۔ جھارکھنڈ، اڑیسہ اور چھتیس گڑھ کے جنگلات کے پاس بعض ایسے گاؤں ہیں جہاں لوگ نہ رات میں سوتے ہیں اور نہ دن میں۔ سرکاری محکمے کا دعویٰ ہے کہ وہ انسانوں اور ہاتھیوں کے درمیان جاری دشمنی کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہاتھیوں کے بارے میں بیداری بڑھانے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ گذشتہ چند برسوں سے سرکاری افسر جیتیندر اپادھیائے اڑیسہ، جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ میں ہاتھیوں کے حملوں سے متعلق سرکاری محکموں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں 'جھارکھنڈ، اڑیسہ اور چھتیس گڑھ کے درمیان ہاتھیوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ لہذا خوف کا ماحول ہے کیونکہ ہاتھی لوگوں کی فصل کو برباد کر دیتے ہیں اور ان پر حملہ کرتے ہیں۔ لوگوں کو ان کے ساتھ رہنے کی عادت نہیں لیکن حکومت نے بیداری مہم شروع کی ہے۔ اس کے تحت ہاتھی دوست ٹیم اور ہاتھی کی معلومات دینے والی ٹیم قائم کی گئی ہے‘۔ ان کوششوں کے باوجود اس جنگ نے ایک ایسی شکل اختیار کی ہے جہاں لوگ اب اپنے گاؤں چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ہر رات لوگوں پر مشکل گزر رہی ہے اور اس تصادم کا خاتمہ نظر نہیں آ رہا ہے۔

loading...