اشاعت کے باوقار 30 سال

نواز شریف سیاسی شہادت حاصل کرنا چاہتے ہیں

نواز شریف سیاسی شہادت حاصل کرنا چاہتے ہیں

اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کے ذریعے سیاسی شہادت حاصل کرنا چاہتے ہیں جس کو آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ انگلی کٹوا کر شہیدوں میں نام لکھوانا چاہتے ہیں جو اب ممکن نہیں ہے، مضبوط معیشت فوج نہیں ہر پاکستانی کا مطالبہ ہے، اسلام آباد اور پنڈی میں فاصلے کم کئے جائیں، پاکستان کو صرف مالی نہیں بلکہ اخلاقی کرپشن کا بھی سامنا ہے، دیکھا جائے تو مالی کرپشن میں صرف ملکی خزانے کو نقصان پہنچتا ہے نظریاتی کرپشن سے جہاں ملکی سالمیت کو خطرہ ہوتا ہے وہیں اخلاقی کرپشن سے آئندہ نسلیں اور لیڈر شپ تباہ ہو جاتی ہے، سپریم کورٹ کے پاس بھی قرضہ معاف کرنے والوں کی فہرستیں ہیں سمجھ نہیں آتی اس ملک میں غریب آدمی تو واپڈا کا 200 روپے معاف نہیں کروا سکتا جبکہ اشرافیا اور مقتدر لوگ یہاں کروڑوں اور اربوں کے قرضے معاف کروا لیتے ہیں۔ انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان میں ہمیشہ ایک ایسی لابی اس طاق میں ہوتی ہے کہ ختم نبوت کے حوالے سے اس قانون پر کوئی ضرب لگائی جائے حتی کہ اس دفعہ تو وزیر قانون نے بھی شروع میں کہنے کی کوشش کی کہ کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، لیکن حلف نامے میں تبدیلی کرنے والے لوگوں کی نشاندہی ہونی چاہئے جنہوں نے یہ سازش کی ہے، جو کسی طرح بھی ایک کلیرکل غلطی نہیں ہے، امیدواروں کے حلف نامے میں تبدیلی کسی کومے یا فل سٹاپ کی غلطی نہیں تھی اس کے ذریعے پورے ایوان کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی، ذمہ داران کا تعین کرنے قرار واقعی سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف سٹیٹسکو کے نمائندے ہیں ان کے ساتھ اتحاد ممکن نہیں، اتحاد بذات خود ایک مقصد نہیں بلکہ کسی مقصد کے لئے ہونا چاہئے، اس ملک کے نظرئیے کے لئے سب کے ساتھ اتحاد ممکن ہے، ایم ایم اے اور اس طرح کے اتحاد پر غور ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے چار سالوں میں عام آدمی کے لئے تو کچھ نہیں ہوا اب وہ اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کے ذریعے سیاسی شہادت چاہتے ہیں، یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ انگلی کٹوا کر شہیدوں میں نام لکھوانا چاہتے ہیں جو ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قومی سیاست یرغمال ہے جہاں عوام ایک طرف ہے اور سیاستدان دوسری طرف، یہی وجہ ہے کہ سیاست پر ایک خاص طبقے کا قبضہ ہے جس کے پاس سرمایہ ہے اور وہ بھی حرام طریقے سے کمایا ہوا ہے، یہی وجہ ہے کہ غاروں میں چھپے ہوئے دہشتگردوں سے زیادہ خطرناک وہ معاشی دہشتگرد ہیں جو شرافت کا لبادہ اوڑھ کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اس وقت الیکشن نہ ہونے کی کوئی بڑی وجہ نظر نہیں آتی جمہوری راہ کے علاوہ دوسرا راستہ اگر آمریت کا ہے تو وہ کوئی علاج نہیں ہے، کیونکہ بری سے بری جمہوریت بھی ایک اچھی آمریت سے بہتر ہوتی ہے، کیونکہ اس میں احتساب ہوتا ہے اور ہر کوئی جوابدہ ہوتا ہے۔ سراج الحق نے کہا کہ پاکستان اس وقت صرف مالی ہی نہیں اور بھی بہت طرح کی کرپشن کا سامنا ہے جس میں سب سے اہم نظریاتی اور اخلاقی کرپشن ہے، دیکھا جائے تو مالی کرپشن سے صرف مالی نقصان ہوتا ہے جبکہ نظریاتی کرپشن سے جہاں ملک کی سالمیت کو خطرہ ہوتا ہے وہیں اخلاقی کرپشن ملک کی آئندہ نسلیں اور لیڈر شپ تباہ ہو جاتی ہے، پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ اس وقت یہ ہے کہ یہاں کا جمہوری نظام ہائی جیک ہو چکا ہے، اب سیاست کو انسان کو اپنے کردار کی بجائے سرمائے کے ذریعے کامیابی ملتی ہے جو کہ زیادہ تر حرام ہی کا ہوتا ہے، جہاں ایک طرف غاروں میں موجود دہشتگرد خطرہ ہیں وہیں ایسے معاشی دہشتگرد ان سے بڑا خطرہ ہیں جنہوں نے ملک کو انتہائی نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن فری پاکستان کی مہم ابھی ختم نہیں ہوئی، یہ جماعت اسلامی ہی کی جدوجہد کا ثمر ہے کہ آج ملک میں کرپشن اشرافیا کا احتساب ہو رہا ہے اور ان تمام معاملات کو تب تک مکمل تصور نہیں کیا جا سکتا جب تک بقیہ 436 پانامیوں کا فیصلہ نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے پاس بھی قرضہ معاف کرنے والوں کی فہرستیں ہیں سمجھ نہیں آتی اس ملک میں غریب آدمی تو واپڈا کا 200 روپے معاف نہیں کروا سکتا جبکہ اشرافیا اور مقتدر لوگ یہاں کروڑوں اور اربوں کے قرضے معاف کروا لیتے ہیں۔

loading...