اشاعت کے باوقار 30 سال

مسلمانوں کی اکثریت قرآن کو مانتی ہے ، لیکن قرآن کی نہیں مانتی

جودھپور: اس اعتراف کے ساتھ کہ مسلمان دنیا کے سامنے اسلام کی مثبت تصویر پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں‘ مسلم علماء اور دانشوروں نے آج یہاں ہندوستان میں برادران وطن کے تئیں اپنے فکری رویوں کو بدلنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انسٹیٹیوٹ آ ف آبجیکٹیو اسٹڈیز (آئی او ایس) کے زیر اہتمام یہاں مولانا آزاد یونیورسٹی کے تعاون سے ’’ہندوستان کے موجودہ سیا ق میں مساوات‘ انصاف اور بھائی چارے کی جانب : ایک بہتر مستقبل کی تخلیق‘ بذریعہ اسلامیات‘‘ کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ سیمینار کا کلیدی خطبہ دیتے ہوئے معروف ماہر اسلامیات اور مولانا آزاد یونیورسٹی کے صدر پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ ہم نے دنیا کے سامنے نہ تو نظری طور پر اور نہ ہی عملی طور پر اسلام کی مثبت تصویر پیش کی۔ ہم اچھائیوں کو بھی اسی طرح چھپاتے رہے جس طرح کچھ لوگ اپنی برائیوں کو چھپاتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسلمان کسی غیر مسلم اکثریتی ملک میں جس طرح اپنے لئے حقوق اور اختیارات چاہتے ہیں وہی حیثیت مسلم اکثریتی ملک میں غیر مسلم اقلیتوں کو دینے کے لئے تیار ہیں؟ پروفیسر اختر الواسع کا کہنا تھا کہ مسلمان آج خود کو جس طرح کی پریشانیوں میں دوچار ہونے کی شکایت کرتے ہیں اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ ’’قرآن کو تو مانتے ہیں لیکن قرآن کی نہیں مانتے‘‘۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنے فکری رویوں کو بدلنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ ہمارے کرنے کے جو کام تھے وہ آج ہم نے اللہ کے سپرد کر دئے ہیں اور جو کام اللہ کے ہیں وہ ہم نے اپنے ذمے لے رکھے ہیں۔ انہوں نے مسلکی عناد کو ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زوردیتے ہوئے کہا کہ جب دین میں کو ئی جبر نہیں ہے تو بھلا مسلک میں کیوں کر جبر ہو سکتا ہے۔
آئی او ایس کے چئرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم نے اپنے صدارتی خطبہ میں ملک میں جاری مختلف النوع کشمکش کا ذکر کرتے ہوئے اسلام‘ اسلامی علوم و فنون‘ اسلامی تہذیب و تمدن‘ اسلامی ثقافت‘ اسلامی عدل و مساوات ‘ اسلامی جذبہ خدمت و انسانیت کی روشنی میں ایک نئے مستقبل کی منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا‘ جس سے ملک میں ہر طرف خوشی‘ خوش حالی‘ امن اور بقائے باہم اور رواداری کی فضا پیدا ہو۔ ڈاکٹر عالم نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ فکری وسعت کی کمی کی وجہ سے بہت سارے مسائل میں نہ تو اجتہاد ہو سکا اور نہ ہی رہنمائی کی جا سکی۔ خواتین کے سیاسی نظام میں شرکت‘ ان کے ووٹ دینے کا مسئلہ‘ ان کے مساجد میں نماز پڑھنے کا مسئلہ‘ جدید ذرائع ابلاغ بالخصوص ٹیلی ویزن کے استعمال کا مسئلہ ‘ سودی نظام معیشت سے استفادہ کا مسئلہ جیسے بے شمار مسائل کو علم کی کمی اور ناقص فہم کی وجہ سے یونہی معلق رکھا گیا انہو ں نے علماء اور اسلامی علوم کے ماہرین سے جدید ہندوستان کے مسائل کا حل‘ اسلامی مطالعات اور علم و تحقیق ‘ تجدید و اجتہاد سے پیش کرنے پر زور دیا۔
قبل ازیں ندوۃ العلماء لکھنؤ کے مہتمم مولانا ڈاکٹر سعید الاعظمی نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ جس طرح بعض چیزیں اصلی اور نقلی ہوتی ہے اسی طرح آج دین بھی اصلی او رنقلی ہو گیا ہے اور نقلی کو اصلی کی شکل میں اتنا خوش نما بنا کر پیش کیا جا رہا ہے کہ لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ آج کے انحطاط پذیر دینی ماحول میں یہی مسئلہ رائج الوقت ہو گیا ہے۔ آج کے بازار میں اصلی مسئلے کے ساتھ نقلی مسئلے بھی داخل ہو گئے ہیں اور ان کا فرق مشکل ہو گیا ہے۔ لیکن ہمیں یہ عہد کرنا ہو گا کہ ہم نقلی سے دست بردار ہو کر اصلی کو اپنائیں گے۔ اس موقع پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق پرو وائس چانسلر بریگیڈیر(ریٹائرڈ) ایس احمد علی اور برطانیہ میں حکمراں کنزرویٹیو پارٹی کے رکن اور سابق ڈپٹی چیئرمین مسٹر عظمت حسین ‘آئی او ایس کے فائنانس سکریٹری پروفیسر اشتیاق دانش ‘میوار مسلم ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر سوسائٹی ‘ جودھ پور کے چیئرمین مسٹر عبدالعزیز نے بھی اظہار خیال کیا۔ اس دو روزہ کانفرنس میں ملک بھر کی مختلف یونیورسٹیوں اور جامعات کے پروفیسر حضرات‘ ریسرچ اسکالر اور ماہرین اسلامیات شرکت کر رہے ہیں ۔

loading...