اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

جونز ٹاؤن میں اجتماعی خود کشی

امریکہ پاکستان کو بھارت یا افغانستان کی عینک سے نہ دیکھے

امریکہ پاکستان کو بھارت یا افغانستان کی عینک سے نہ دیکھے

اسلام آباد : وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ سول ملٹری تناؤ پر ادارے کے اندر بات ہونی چاہیے میڈیا میں نہیں، پاکستان خطے میں بھارت کے سیکیورٹی کردار کو یکسر مسترد کرتا ہے امریکہ کو سی پیک پر خطرے کی گھنٹیاں بجتی محسوس ہو رہی ہیں۔ ہم دہشت گردی سے لڑے اب انتہا پسندی سے لڑنا ہے ۔ امریکہ پاکستان کو بھارت یا افغانستان کی عینک سے نہ دیکھے۔ نجی ٹی وی کو دئے گئے انٹرویو میں خرم دستگیر خان نے کہا کہ سی پیک پر امریکہ کو خطرے کی گھنٹیاں بجتی محسوس ہو رہی ہیں امریکی وزیر دفاع کے بیان کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایبٹ آباد آرمی سکول واقعے کے بعد پاکستان کا قومی بیانیہ تبدیل ہوا موجودہ پاکستان آپریشن ضرب عضب اور رد الفساد کے بعد والا پاکستان ہے امریکہ پاکستان کو بھارت یا افغانستان کی عینک سے نہ دیکھے انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں بھارت کے سیکیورٹی کردار کو یکسر مسترد کرتا ہے بھارت خود کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور خطے میں بدامنی میں بھارت کا کردار ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں ڈو مور سے زیادہ اپنی دفاعی صلاحیت اور معاشی نمو کو قائم رکھنا ہے خطے میں امن کے لئے پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغان سرحد پر باڑ لگانے میں پاکستان کی کوئی مدد کرنے نہیں آیا ۔ القاعدہ کو ختم کرنے میں پاکستان کا کلیدی کردار ہے۔ داغ پاکستان افغانستان میں پیدا ہوئی افغانستان میں داعش کی موجودگی کا سوال امریکہ اور افغان حکام سے پوچھنا چاہیے انہوں نے کہا کہ ہم نے آپریشن ردالفساد اور ضرب عضب کے ذریعے ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا ہمارا امریکہ سے مطالبہ امداد کا نہیں ہے ہم امریکہ سے افغانستان میں ذمہ داری کا مطالبہ کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ گھر کی صفائی سے متعلق خواجہ آصف اور احسن اقبال کے بیان کو غلط لیا گیا پاکستان میں اب کسی دہشت گردی کی کوئی پناہ گاہ نہیں ہے ہمیں اپنے گھر کی مزید صفائی کرنی ہے ابھی مکمل صفائی نہیں ہوئی طالبان پر پاکستان کا اثر بہت کم ہو چکا ہے انہوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں پاکستان کی سرحد کے قریب آپریشن سے پاکستان کو آگاہ کرے گا ہم نے دہشت گردی سے لڑ لیا اب انتہا سندی اور تشدد سے لڑنا ہے انہوں نے کہا کہ پر امن افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے ۔ ہمارے تحفظات سے افغانستان مکمل آگاہ ہے اعتماد سازی کے بغیر ہم آگے نہیں چل سکتے اگر بھارت پاکستان میں در اندازی کے لئے افغان سرزمین استعمال کرے گا تو یہ ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے پاک افغان ہمسایہ ممالک ہیں ہمیں کسی تیسرے ملک کو اپنے مسائل میں شامل نہیں کرنا پاک افغان تعلقات میں بھارت کی دخل اندازی قبول نہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی امریکہ سے افغانستان میں اس کی ترجیحات پر بات ہونا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سول ملٹری تناؤ کو مناسب فورم پر حل ہونا ہے یہ اختلافات ادھر ڈوبے ادھر نکلے ہیں ہمیں اگر مسائل ہیں تو ادارے کے اندر اس پر بات ہونی چاہیے میڈیا پر نہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئین کی چھڑی ہے تو ادارے قائم ہیں حکومتیں آتی جاتی ہیں ملک میں جمہوریت قائم رہنی چاہیے جمہوریت میں عوام انتخابات میں پرفارمنس پر حکومت کو مسترد کر دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ کور کمانڈرز کانفرنس میں صرف سیاست پر بات نہیں ہوتی آپریشنل معاملات بھی ہوتے ہیں بدقسمتی سے پاکستان کی دو سرحدوں پر تناؤ ہے آرمی کو اپنے مسائل کو بھی دیکھنا ہوتا ہے فوج کو بہت سے مسائل پر غور کرنا ہوتا ہے انہوں نے کہا نواز شریف میرے قائد اور شاہد خاقان میرے وزیر اعظم ہیں مسلم لیگ ن متحد ہے اختلاف رائے ہوتا رہتا ہے جب ہم آئے تو خون اور اندھیرے میں ڈوبا پاکستان تھا آج روشن اور پر امن پاکستان ہے۔

loading...