اشاعت کے باوقار 30 سال

مسجد امام ضامن اور مسجد غور میں خود کش دھماکہ

مسجد امام ضامن اور مسجد غور میں خود کش دھماکہ

کابل : افغان دارالحکومت کابل میں 2 مختلف مساجد میں دھماکوں کے نتیجے میں 40 افراد جاں بحق جب کہ درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ پہلا دھماکہ افغانستان کے دارالحکومت کابل کی ایک مسجد امام ضامن میں ہوا جس میں 30 افراد ہلاک اور 45 زخمی ہو گئے جبکہ کچھ ہی دیر بعدصوبے غور کی مسجد میں بھی خودکش دھماکہ ہوا جس میں 10 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق کابل پولیس کے ترجمان عبدالبصیر مجاہد نے امام بارگاہ مسجد امام ضامن دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکے کی نوعیت کے حوالے سے ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ افغان وزارت داخلہ کے عہدیدار میجر جنرل علی مست مومند کا کہنا تھا کہ دھماکا کابل کے علاقے دشتی برچی میں ہوا جہاں پیدل حملہ آور مسجد امام ضامن میں داخل ہوا اور کچھ دیر نمازیوں پر فائرنگ کی جس کے بعد خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ استقلال ہسپتال کے سربراہ محمد صابر نصیب کا کہنا تھا کہ ان کے پاس دھماکے میں ہلاک ہونے والے دو افراد کی لاشوں اور دو زخمیوں کو لایا گیا ہے۔ دوسری جانب کابل دھماکے کے کچھ ہی دیر بعد افغانستان کے صوبے غور کی مسجد میں بھی خودکش دھماکے کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ ترجمان افغان وزارت داخلہ کے مطابق سیکیورٹی فورسز جائے وقوعہ پر موجود ہیں جو دھماکے کی تحقیقات کر رہی ہیں۔ دوسری جانب شدت پسند تنظیم داعش نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ افغان صدر اشرف غنی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز افغانستان کے صوبے قندھار میں افغان نیشنل آرمی کے ایک بیس کیمپ پر خود کش حملے کے نتیجے میں 41 اہلکار ہلاک اور 24 زخمی ہو گئے تھے جبکہ دو روز قبل جنوب مشرقی صوبے پکتیا میں قائم پولیس ٹریننگ سینٹر پر ہونے والے خود کش حملے اور مسلح جھڑپ کے نتیجے میں 32 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ یاد رہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں رواں سال مئی میں بارودی مواد سے لدے ٹرک کے ذریعے کیے جانے والے بم دھماکے میں 150 افراد کے ہلاک ہو گئے تھے جس کو کابل کی تاریخ کا خونی ترین حملہ قرار دیا گیا تھا۔ افغان حکام کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری بھی حقانی نیٹ ورک پر عائد کی گئی تھی۔

loading...