اشاعت کے باوقار 30 سال

کشمیری اپنا حق خودارادیت مانگ رہے ہیں

کشمیری اپنا حق خودارادیت مانگ رہے ہیں

سرینگر: مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد اسمبلی کے رکن اور عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر عبد الرشید نے کہا ہے کہ کشمیری بھارت کے دشمن نہیں ہیں بلکہ وہ اپنا بنیادی حق ،حق خودارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ جس کا بھارت نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے ۔ انجینئر رشید نے ہندواڑہ میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو کشمیریوں کے خلاف این آئی اے جیسے تحقیقاتی اداروں یا اس طرح کے دیگر ہتھکنڈوں کو استعما ل کرنے کی بجائے چاہیے کہ وہ مقبوضہ علاقے کی زمینی صورت حال کا اعتراف کرتے ہوئے کشمیری عوام کا ان حق خودارادیت دینے کیلئے رائے شماری کرائے ۔ انہوں نے کہاکہ این آئی اے کے ذریعے نام نہاد تحقیقات کے نام پر کشمیریوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انجینئر رشید نے کہا کہ اگر بھارت اور اس کے ادارے واقعتاََ این آئی اے کے ذریعے تحقیقات کرانا چاہتے ہیں تو پھر انہیں سب سے پہلے مقبوضہ کشمیر میں معمول بن چکی دوران حراست گمشدگیوں، لوگوں سے بیگار لئے جانے، پیلٹ گن کے ذریعے نابینا بنانے اور املاک کی تباہی جیسے مسائل کی تحقیقات کرائی جانی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو کشمیریوں کو اپنا دشمن سمجھنے کی بجائے ان کے جائز مطالبے کو قبول کرنا چاہیے تاکہ خطے میں پائیدار امن و سلامتی کی راہ ہموار ہو سکے ۔ نام نہاد اسمبلی کے رکن نے کہا کہ بھارت کو سمجھ لینا چاہیے کہ کشمیری نہ تو اسکے دشمن ہیں اور نہ ہی اس کا برا چاہتے ہیں بلکہ ہم امن پسند لوگ ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہمیں کسی بھی طرح کے دباؤ میں لاکر اپنے حق خود ارادیت کے مطالبے سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے حالیہ دنوں میں بھارتی وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی طرف سے مسئلہ کشمیر بارے دئے گئے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان بیانات کا تب تک کوئی مطلب نہیں ہو سکتا جب تک ان عمل درآمد کر کے اس سیاسی اور انسانی مسئلے کو حل نہیں کیا جاتا۔ مقبوضہ وادی کشمیرمیں خواتین کی چوٹیاں کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے انجینئر رشید نے کہاکہ ان واقعات کی وجہ سے پوری وادی میں خوف و ہراس پایاجاتا ہے جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔انہوں نے پولیس کوتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ڈیڑھ ماہ سے جاری واقعات کے بعد بھی پولیس مجرموں کے خلاف کارروائی میں ناکام رہی ہے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جموں و کشمیر کو ایک لیبارٹری کی طرح استعمال کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے بصورت دیگر اس کے انتہائی سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ بعدازاں انجینئر رشید نے مقبوضہ علاقے میں چوٹیاں کاٹنے کے واقعات کے خلاف ایک پرامن احتجاجی ریلی کی قیادت کی ۔ ریلی میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔

loading...