اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

جونز ٹاؤن میں اجتماعی خود کشی

پاکستان سے بہتر تعلقات کا آغاز کر رہے ہیں

پاکستان سے بہتر تعلقات کا آغاز کر رہے ہیں

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ حقیقی بہتر تعلقات کا آغاز کررہے ہیں۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کئی محاذوں پر تعاون کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، پاکستان اور اس کے رہنماؤں کیساتھ امریکا کے تعلقات پہلے سے بہت زیادہ بہتر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔قبل ازیں واشنگٹن میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کئی سال تک امریکا سے فائدہ اٹھایا ہے اور اب اس نے بحیثیت قوم امریکا کا پھرسے احترام کرنا شروع کردیا ہے، لہذا ہم اب پاکستان کے ساتھ حقیقی بہتر تعلقات کا آغاز کررہے ہیں۔ادھرامریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان ہیتھر نوریٹ کا کہنا ہے کہ شمالی امریکی جوڑے کی افغانستان میں حقانی نیٹ ورک کی قید سے رہائی کے معاملے میں پاکستان کی جانب سے دی جانے والی اس ’اہم مدد‘ کو امریکا کبھی نہیں بھولے گا۔امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان ہیتھر نوریٹ نے مقامی میڈیا کو دی جانے والی بریفنگ کے دوران کہا کہ ’میں یہ واضح کرنا چاہتی ہوں کہ امریکا، حکومت پاکستان کا بے حد مشکور ہے، کیونکہ ان کی مدد کے بغیر شمالی امریکی جوڑے کی بازیابی ممکن نہیں ہوتی۔پاکستان کی اس کوشش پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے فراہم کی جانے والی یہ مدد انتہائی اہمیت کی حامل ہے جسے امریکا یقینی طور پر کبھی نہیں بھولے گا۔وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک علیحدہ بیان میں کہا گیا کہ افغانستان میں موجود حقانی نیٹ ورک نے امریکی شہری کیٹلن کولمین اور ان کے کینیڈین شوہر جوشوا بوئلے کو 2012 میں افغان دار الحکومت کابل کے قریب پہاڑی علاقوں سے اغوا کیا گیا تھا۔امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان کا نیوز بریفنگ کے دوران پاکستان اور امریکا کے تعلقات کے بارے میں بھی بات کی۔خیال رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مئی 2011 میں ایبٹ آباد کے ایک کمپاؤنڈ میں امریکی نیوی سیل کی کارروائی میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد خراب ہوگئے تھے جبکہ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنوبی ایشیا کے لیے نئی امریکی پالیسی کے اعلان کے بعد تعلقات میں مزید کشیدگی آگئی تھی۔ہیتھر نوریٹ نے اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاک امریکا تعلقات میں چند نکات پر چیلنجز کا سامنا رہ چکا ہے تاہم یہ تعلقات راتوں رات بدل نہیں سکتے لیکن پھر بھی پاکستان کی جانب سے یہ درست سمت میں ایک اہم قدم ہے۔شمالی امریکی جوڑے کی بازیابی میں ریسکیو آپریشن کے دوران پاکستان کے کردار پر سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے دی جانے والی معلومات کے بعد پاک فوج مغوی خاندان کو بازیاب کرانے میں کامیاب ہوئی جبکہ ان لوگوں کی واپسی پر ہم سب بے حد خوش ہیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ مغویوں کی بازیابی کے لیے کسی بھی طرح کا قیدیوں کا تبادلہ یا اغواء4 برائے تاوان کی رقم نہیں دی گئی۔تاہم جب ہیتھر نوریٹ سے ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان پر سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ ابھی اس کی تصدیق یا تردید کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز پاک فوج نے افغان سرحد پر آپریشن کرکے 5 افراد پر مشتمل امریکی کینیڈین خاندان کو بازیاب کرایا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے مغویوں کی بازیابی میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے پاک امریکا تعلقات کا ایک مثبت لمحہ قرار دیا۔

loading...