اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

جارج واشنگٹن وفات پا گئے

اسحاق ڈار کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات عدالت میں جمع

اسحاق ڈار کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات عدالت میں جمع

اسلام آباد: نیب ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی اہلیہ اور کمپنیوں کے 3 بینک اکانٹس کی تفصیلات عدالت میں پیش کر دیں۔ جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد میں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کی، کمرہ عدالت میں وزیر مملکت انوشہ رحمان، طارق فضل چوہدری اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی بیرسٹر ظفراللہ بھی موجود تھے۔ سماعت کا آغاز استغاثہ کے گواہ طارق جاوید کی جرح سے ہوا۔ دوران جرح طارق جاوید نے بتایا کہ وہ 1991 سے البر کا بینک سے وابستہ ہیں، نیب نے میرے بینک کے ذریعے مجھے بلایا اور مجھے کہا گیا کہ اسحاق ڈار کی تصدیق شدہ بینک تفصیلات نیب کو فراہم کریں، میں 17 اگست کو ایک اکاونٹ کی تفصیلات لے کر نیب گیا، نیب لاہور کو اسحاق ڈار کی بیوی تبسم اسحاق ڈار کے اکاونٹ کی تفصیلات دیں، اس کے علاوہ تبسم اسحاق ڈار کا اکاونٹ کھلوانے کا فارم بھی نیب کو دیا۔ 14 اکتوبر 2000 سے بینک اکانٹ کی اسٹیٹمنٹ شروع ہوئی۔ طارق جاوید نے دوران جرح بتایا کہ اس نے بینک کے حکم پر نیب لاہور میں تفتیشی افسر کو اکانٹ کی تصدیق شدہ کاپیاں فراہم کیں، خواجہ حارث نے کہا کہ ریفرنس میں شامل بعض دستاویزات نہیں مل رہیں، اب آپ مضمون ڈھونڈیں گے تو وہ ملیں گے نہیں، جس پر فاضل جج محمد بشیر نے کہا کہ یہ اتنا بڑا مسئلہ اور متنازعہ چیز نہیں، خواجہ حارث نے جواب میں کہا کہ گواہ ان کے ہاتھ میں ہیں اور جرم ان کو ثابت کرنا ہے، ایک دستاویز آنے کے بعد اضافی دستاویز نہیں آ سکتی۔ خواجہ حارث کے اعتراض پر نیب کے وکیل نے کہا کہ دستاویز میں ایک صفحہ غائب ہے وہ نئی درخواست کے ساتھ جمع کرا دیں گے۔ جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ قانون کی رو سے ایک دستاویز آنے کے بعد اضافی دستاویز نہیں آ سکتی۔ فاضل جج نے نیب کے وکیل کو حکم دیا کہ نئی درخواست کے ساتھ مسنگ دستاویز شامل کی جائیں۔ خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں دعوی کیا کہ 2006 سے اس بینک اکانٹ سے کوئی ٹرانزیکشن نہیں ہوئی، بینک اسٹیٹمنٹ صفحہ 35 سے 39 تک فوٹو کاپی پر مشتمل ہے، الیکٹرانک اسٹیٹمنٹ کو بطور پرائمری ثبوت نہیں لیا جا سکتا، الیکٹرانک ٹرانزیکشن ایکٹ 2000 کی شق 12 کا حوالہ ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے، ہمارے اعتراضات کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔ ہم نے عدالت عظمی میں بھی کہا تھا کہ اس طرح کیس دو دن میں ختم ہو سکتا ہے۔ فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ ہم تصدیق شدہ کاپی منگوانے کا حکم دے دیتے ہیں، جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ دیکھنا ہے کہ تصدیق شدہ کاپی کا ثبوت موجود بھی ہے یا نہیں، اس ریکارڈ پر عدالت کیس چلانا چاہے تو چلا لیں۔ نیب پراسیکیوٹر عمران شفیق نے عدالت سے استدعا کی کہ وکیل صفائی کا اعتراض درست نہیں، یہ عدالت کا کام ہے کہ وہ شہادت کو بنیادی شہادت تسلیم کرے، گواہ کی شہادت کو ابتدائی شہادت کے طور پر لیا جائے اور اس ثبوت کو پرائمری ثبوت کے طور پر قبول کرے۔ دوران سماعت طارق جاوید نے بتایا کہ پہلا اکانٹ تبسم اسحاق ڈار، دوسرا ہجویری مضاربہ اور تیسرا ہجویری ہولڈنگ پرائیویٹ کے نام پر کھولا گیا، ہجویری مضاربہ کے اکانٹس عبدالرشید، نعیم محبوب اور ندیم بیگ آپریٹ کر رہے تھے، گواہ نے تیسرے بینک اکانٹ کی تفصیل، بینک کورنگ لیٹر، اکانٹ کھلوانے کا فارم اور ٹرانزیکشن کی تفصیلات بھی عدالت میں پیش کر دیں۔ خواجہ حارث نے کہا کہ انہیں گواہ کی دستاویز پر اعتراض ہے، پیش کی گئی دستاویزات گواہ نے تیار کیں اور نہ اس کی تحویل میں ہیں، تصدیق شدہ دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں، یہ دستاویزات تو کوئی بھی تیار کر سکتا ہے، جس پر فاضل جج نے کہا کہ ایسی بات نہیں یہ بینک کی دستاویزات ہیں۔ خیال رہے کہ گزشتہ 4 اکتوبر سماعت کے دوران نیب کی جانب سے لاہور کے ایک نجی بینک (بینک الفلاح) کے سابق مینیجر اشتیاق علی کو بطور گواہ پیش کیا گیا جنہوں نے عدالت میں بیان ریکارڈ کروایا تھا کہ اسحق ڈار کی اہلیہ تبسم اسحق ڈار کے نام سے 2001 میں مذکورہ بینک میں اکانٹ کھلوالا گیا تھا، جس کی تفصیلات میں انہوں نے اپنی ایک سیکیورٹی کمپنی کے بارے میں بتایا جس کا نام ایچ ڈی ایس سیکیورٹیز پرائیویٹ لمیٹڈ ہے۔ استغاثہ گواہ اشتیاق علی نے بتایا کہ بینک میں کمپنی کے علاوہ اسحق ڈار کا ذاتی اکانٹ بھی ہے جو انہوں نے 2005 میں کھولا تھا تاہم اسے 2006 میں بند کر دیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ وزیر خزانہ اسحق ڈار پر 27 ستمبر کو نیب ریفرنسز کے سلسلے میں احتساب عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران فردِ جرم عائد کی گئی تھی، تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس میں الزامات کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے اپنی حتمی رپورٹ میں کہا تھا کہ اسحق ڈار کے اثاثوں میں بہت کم عرصے کے دوران 91 گنا اضافہ ہوا اور وہ 90 لاکھ روپے سے 83 کروڑ 10 لاکھ روپے تک جا پہنچے۔ جس کے بعد عدالت عظمی نے 28 جولائی کو پاناما پیپرز کیس میں اپنا حتمی فیصلہ سناتے ہوئے نیب کو اسحق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے حوالے سے ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔ بعد ازاں نیب نے اسحق ڈار کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا، جس کے دوران وزیر خزانہ کی آمدنی میں اضافے کے علاوہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ، ہارٹ سٹون پراپرٹیز، کیو ہولڈنگز، کیونٹ ایٹن پلیس، کیونٹ سولین لمیٹڈ، کیونٹ لمیٹڈ، فلیگ شپ سیکیورٹیز لمیٹڈ، کومبر انکارپوریشن اور کیپیٹل ایف زیڈ ای سمیت 16 اثاثہ جات کی تفتیش کی گئی۔ جس کے بعد ان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے الزام میں احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا گیا۔ اسحاق ڈار کے خلاف دائر ریفرنس میں دفعہ 14 سی لگائی گئی ہے، یہ دفعہ آمدن سے زائد اثاثے رکھنے سے متعلق ہے، جس کی تصدیق ہونے کے بعد 14 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ ریفرنس دائر ہونے کے بعد احتساب عدالت نے اسحق ڈار کو 19 ستمبر کو طلب کیا تھا تاہم عدالت میں پیش نہ ہونے پر ان کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے تھے۔ بعد ازاں وفاقی وزیر خزانہ 25 ستمبر کو احتساب عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت میں 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرائے۔

loading...