اشاعت کے باوقار 30 سال

ہندو انتہا پسندی عروج پر، فوک گلوکار عماد خان قتل

ہندو انتہا پسندی عروج پر، فوک گلوکار عماد خان قتل

نئی دہلی: برا گانا گانے پر فوک گلوکار عماد خان کو جسلیمر میں قتل کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق رامیش نامی آدمی نے نوراتری کے موقع پر دیوی دیوتاں کو خوش کرنے کے لیے ایک تقریب کا انعقاد کیا جس میں 45 سالہ فوک گلوکار عماد خان کو ایک مذہبی گیت گانے کے لیے بلایا مگر عماد خان اس گیت کو بہتر انداز میں گا نہیں سکے اور رامیش بھی تقریب کا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا جس کا سارے کا سارا ملبہ عماد خان کی بری گائیکی پر ڈال دیا گیا۔ اسی تقریب کی رات رامیش نے عماد خان کو اس کے گھر سے اغوا کیا اور اس کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا۔ قتل کرنے کے بعد عماد خان کی لاش کو اس کے گھر کے باہر چھوڑ دیا گیا۔ خاندان کو دھمکایا گیا کہ اگر انہوں نے قاتلوں کے خلاف کسی قسم کی قانونی کاروائی کا آغاز کیا تو اس کے بدترین نتائج بر آمد ہوں گے۔ عماد خان کے بھائی نے الزام عائد کیا کہ اعلی ذات کے ہندووں نے ان کے خاندان کو فوری طور پر گاوں چھوڑنے کے لیے کہا۔ جس کے بعد متاثرہ خاندان نے قریبی گاوں میں پناہ لے لی۔ پولیس نے قانونی کاروائی کا آغاز کرتے ہوئے ملزم رامیش کو گرفتار کر لیا ہے۔

loading...