اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

معمر قذافی کو ہلاک کر دیا گیا

حکومت دلا دو ایٹمی پروگرام لے لو

حکومت دلا دو ایٹمی پروگرام  لے لو

اسلام آباد: رینجرز نے اسلام آباد کی اہم عمارتوں سے سیکیورٹی ہٹانا شروع کر دی، احسن اقبال اپنی زبان کنٹرول کریں ورنہ لوگ کنٹرول کریں گے، پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے چیئرمین نیب کے لئے دئے ایک دوسرے کے نام مسترد کر دئے ، بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ نے امریکہ سے کہا کہ مجھے حکومت دلوائیں میں پاکستان کا نیو کلیئر پروگرام آپ کے حوالے کر دوں گا، یہ اہم انکشاف سینئر تجزیہ کار نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کئے۔ سینئر تجزیہ کار نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رینجرز کے سکیورٹی ہٹا لینے کے بعد اب پارلیمنٹ سمیت تمام سکیورٹی پنجاب پولیس کے حوالے ہو گئی ہے، ایسے وقت میں جب ختم نبوت قانون میں تبدیلی کی کوشش کی جا رہی ہے، درحقیقت بیرون ملک کے دعوے ایفا کئے جا رہے ہیں، رد عمل آنے پر معصوم شکلیں بنا کر ’غلطی ہو گئی‘ کی گردان شروع کر دیتے ہیں، بدقسمتی سے پارلیمنٹ میں بدمعاش ، رسہ گیر اور جیب کترے بھی پہنچ چکے ہیں، آج کی پارلیمنٹ سے 90 کی دہائی کی پارلیمنٹ بہت بہتر تھی۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کے لئے جسٹس (ر) فقیر کھوکھر کا نام اس وقت تک سرفہرست ہے جو جسٹس ڈوگر کے قریبی ساتھی تھے اور آج کل اسحاق ڈار کو نیب مقدمات میں مشورے دے رہے ہیں، کور کمانڈر کانفرنس میں فیصلہ ہوا ہے کہ آئین اور قانون کے مسائل کے حل کے لئے کچھ موقع مزید دیا جائے، ایسے وقت میں جب امریکی حکام پاکستان بارے انتہائی سخت زبان استعمال کر رہے ہیں ، فوج کی جانب سے سخت پریس ریلیز آتی تو واویلا شروع کر دیا جاتا۔
سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ آج تک جتنے بھی مارشل لاء آئے ان کی وجوہات کچھ اور تھیں تاہم اگر اب مارشل لاء آیا تو حقیقت میں یہ پہلا حقیقی مارشل لاء ہو گا، سیاست دان کو ادراک ہونا چاہیے کہ باہر کے ممالک پر انحصار خطرناک ہو تا ہے ، شاہ ایران اس کی مثال ہے ، نواز الطاف رابطے مسلسل جاری ہیں ، نواز شریف کو سقوط ڈھاکہ جیسے الفاظ کون لکھ کر دے رہا ہے، بدمعاشیہ بارے پھر کہوں گا کہ کچھ مارے جائیں گے ، کچھ پکڑے جائیں گے ، کچھ بھاگ جائیں گے، لیکن پھر پکڑ کر مار دیئے جائیں گے، احسن اقبال و دیگر لیگی قائدین یاد رکھیں کہ ایک معمولی آدمی سکندر نے کتنے گھنٹوں تک حکومت کو تگنی کاناچ نچایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چند سال پہلے ایک بڑے مستند امریکی صحافی ہوشی نے ”نیو یارک “ میں مضمون لکھا تھا کہ پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کو خطرہ ہے، نیوکلیئر پروگرام میں کوئی گڑ بڑ ہوئی تھی جس پر امریکہ کے کمانڈوز اس پر قبضہ کے لئے خلیجی ممالک پہنچ گئے تھے، اس بات کی کھوج کی تو اہم امریکی حکام سے بات ہوئی، انہوں نے بتایا کہ آپ کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ نے حکومت دلانے کے بدلے ایٹمی پروگرام رول بیک کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔