اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

معمر قذافی کو ہلاک کر دیا گیا

امریکی سفارت خانہ فی الوقت یروشیلم منتقل نہیں کیا جا رہا

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ فی الوقت امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کرنے سے متعلق اپنے انتخابی وعدے کو عملی جامہ نہیں پہنا رہے ہیں۔ انھوں نے سابق گورنر مائیک حقابی کے ٹی وی شو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات کے نتیجے میں کسی ڈیل کا انتظار کروں گا اور اس کے بعد سفارت خانے کو یروشیلم میں منتقل کرنے کے بارے میں سوچوں گا‘‘۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’’ہم اس حوالے سے کوئی مستقبل بعید میں فیصلہ کرنے نہیں جا رہے ہیں بلکہ اس سے پہلے ہم امن مذاکرات کا آغاز چاہتے ہیں‘‘۔ انھوں نے اپنے 36 سالہ داماد جیرڈ کوشنر کو فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان تعطل کا شکار امن مذاکرات بحال کرانے کی ذمے داری سونپی ہے لیکن ان کا پہلے سے حکومت یا سفارت کاری کا کوئی تجربہ نہیں ہے اور صرف خاندانی تعلق کی بنا پر وہ وائٹ ہاؤس کی اہم شخصیت بن گئے ہیں۔ واضح رہے کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھنے والے ممالک نے تل ابیب میں اپنے سفارت خانے قائم کررکھے ہیں کیونکہ وہ اسرائیل کے مقبوضہ بیت المقدس پر کنٹرول کے یک طرفہ دعوے کو تسلیم نہیں کرتے ہیں اور اس کو متنازع سمجھتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے گذشتہ سال اپنی انتخابی مہم کے دوران میں امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرے گی جبکہ سابق صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے گریز کیا تھا۔اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں اس کو یک طرفہ طور پر اپنی ریاست میں ضم کر لیا تھا۔ اب وہ تمام شہر کو اپنا دائمی دارالحکومت قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس پر یہود کا حق ہے جبکہ فلسطینی بیت المقدس کے مشرقی حصے کو اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان دیگر باعث نزاع مسائل میں سے ایک مقبوضہ بیت المقدس بھی ہے۔