اشاعت کے باوقار 30 سال

اف یہ سمارٹ فون

اف یہ سمارٹ فون

عزیزان اپنے ہاتھوں میں مضبوطی سے جھکڑے ہوئے اس عجوبے کی صحت پر کبھی غور کیا ہے آپ نے؟

یہ #موبائل یوں ہی ہٹا کٹا نہیں ہے. اس نے بہت کچھ کھایا پیا ہے.
یہ ہاتھ کی گھڑیاں کھا گیا, یہ چٹھی اور پوسٹ کارڈ وغیرہ کھا گیا, اس نے ریڈیو کھایا
ٹیپ ریکارڈر کیسٹیں اور مہنگے سے مہنگے کیمرے چبا گیا. یہ ٹارچ اور لائیٹیں کھا گیا. یہ موبائل دنیا کی ساری کتابیں کھا گیا
اس نے سیکڑوں میل کی دوریاں پی لیں. اس موبائل نے تنہائیاں پی لیں.
ایک دوسرے سے دوستی پڑوس سے میل ملاپ ودیگر خلوص بر مبنی تعلقات نگل گیا.
لوگوں کے اوقات نہیں رہے یہ لوگوں کا وقت بھی بھسم کر گیا. یہ پیسے لگاتار کھا رہا ہے. یہ رشتے کھا رہا ہے.
یہ لوگوں کے خون ہڈیوں کے گودے دماغ کا مغز اور تندرستی کھا کر روگی بنا رہا ہے
یہ موبائل فون یوں ہی ہٹا کٹا نہیں ہوا ہے اس نے بہت کچھ کھایا پیا ہے جو ہمیں اور آپکو زندگی میں نصیب نہیں ہو سکتا
اور حیرت در حیرت تو اس بات پر کہ بڑی سے بڑی اور تگڑی اشیاء ہضم کر جانے کے بعد بھی یہ کہلاتا سمارٹ فون ہی ہے۔۔
کہنے کو تو یہ آستین کا وہ سانپ ہے جسے ہم خود سینے سے لگائے پھرتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ سمارٹ فون نامی یہ اژدھا اب تک ہماری کتنی ہی پسندیدہ اور قیمتی اشیاء کو نگل چکا ہے یہ ٹیلی ویژن کو بھی کچا چبا گیا اخبارات نگل گیا
لائیبریاں ہضم کر لیں اس نے محفلیں ڈکار لی ہیں ٹائپ راٹر کا خون پی لیا
اب یہ انسانی آنکھ ،گردن، ہاتھ اور دیگر اعضاء سمیت انسانی رشتوں کو دیمک کی طرح چاٹنا چاہتا ہے
ایک تحقیق کے مطابق موبائیل فون کے اتنا کچھ جٹ پٹ ہضم کر لینے کے بعد بھی اس کے معدے میں کافی گنجائش باقی ہے
البتہ یہ معمہ اب تک حل نہیں ہوا کہ آخر کیسے اتنا سب کھا پی کر بھی موٹا اور تگڑا ہونے کے بجائے یہ "سمارٹ" ہی رہا ہے

تحقیق جاری ہے۔۔