اشاعت کے باوقار 30 سال

عالمی تنظیم نے بھارت کا اصل چہرہ دِکھا دیا

عالمی تنظیم نے بھارت کا اصل چہرہ دِکھا دیا

نیویارک: عالمی تنظیم ’واک فری فاؤنڈیشن‘ نے دنیا میں غلاموں کی تعداد پر سنہ 2016 کی سالانہ رپورٹ پیش کی۔ اس رپورٹ کے مطابق 2016 میں پوری دنیا میں چار کروڑ افراد غلام تھے۔ سب سے زیادہ چونکا دینے والی بات یہ تھی کہ ان میں سے آدھے غلام یعنی تقریبآ دو کروڑ افراد صرف انڈیا میں غلام ہیں۔ اس سے بھی چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ اتنی بڑی خبر ملک کے سینکڑوں نیوز چینلوں اور ہزاروں اخبارات میں کہیں جگہ نہ پا سکی۔ یہ خبر بعض اخبارات میں اب اس لیے سامنے آئی کیونکہ ملک کی خفیہ انٹیلیجنس بیورو نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اس رپورٹ سے بین الاقوامی سطح پر انڈیا مشکل میں پڑ سکتا ہے۔ واک فری فاؤنڈیشن آسٹریلیا کے ایک ارب پتی اینڈریو فارسٹ نے سنہ 2012 میں قائم کیا تھا اور اس کا مقصد دنیا سے غلامی کا خاتمہ کرنا ہے۔ جدید دور میں غلامی کے زمرے میں ایسے گھریلو خادم، تعمیراتی مزدور، زرعی مزدور اور فیکٹری ورکرز شامل ہیں جنھیں ڈر یا جبر کے تحت اپنی مرضی کے خلاف کام کرنا پڑتا ہے۔دوسرے زمرے میں اکثریت ان خواتین یا لڑکیوں کی ہے جن کی شادی ان کی مرضی کے بغیر کسی سے کر دی جاتی ہے اور ان کا استعمال اکثر مزدور یا سیکس ورکر کے طور پر کیا جاتا ہے۔ فاؤنڈیشن نے ستمبر سنہ 2017 میں جو رپورٹ جاری کی ہے اس کے مطابق انڈیا میں غلاموں کی تعداد تقریباً دو کروڑ ہے۔ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے انڈیا میں 27 کروڑ سے زیادہ لوگ غریبی کی سطح کے نیچے زندگی گزارتے ہیں۔ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے انڈیا نے حالیہ برسوں میں کم سے کم یومیہ اجرت طے کرنے اور بچوں سے مزدوری کروانے کے خلاف قانون بنا کر غلامی پر قابو پانے کے لیے بعض اقدامات کیے ہیں لیکن ان کو روکنے کے لیے ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔فری واک فاؤنڈیشن کو امریکی ارب پتی بل گیٹس، برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور امریکہ کی سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی حمایت حاصل ہے۔ بعض میڈیا رپورٹوں کے مطابق انڈیا کے انٹیلیجنس بیورو نے حکومت کو اس لیے بھی خبردار کیا ہے کہ ستمبر کی رپورٹ کی تیاری میں اقوام متحدہ کا ادارہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن یعنی آئی ایل او بھی شامل تھا۔ اطلاع کے مطابق یہ رپورٹ امریکی وزرات خارجہ کی مالی اعانت سے تیار ہوئی ہے۔ انٹیلیجنس بیورو کا خیال ہے کہ یہ رپورٹ سیاسی محرکات پر مبنی ہے اور اس میں انڈیا کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا ہے۔ انڈیا اکیلا ایسا ملک ہے جہاں فاؤنڈیشن نے الگ الک ریاستوں میں سروے کیا ہے۔انٹیلیجنس بیورو کا خیال ہے اس رپورٹ سے جنوبی انڈیا کی ٹکسٹائل انڈسٹری کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جو کپڑے کی برآمد کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ ہالینڈ اور کئی دوسرے یورپی ملکوں کی غیر سرکاری تنظیمیں جنوبی ہندوستان کی کپڑے کی فکٹریوں میں بچوں کے کام کرنے کا معاملہ اٹھاتی رہی ہیں۔ انٹیلی جنس بیورو نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے ادارے آئی ایل او پر واک فری فاؤنڈیشن سے الگ ہونے کے لیے دباؤ ڈالے۔

loading...