اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

الکپون کو قید کی سزا ہو گئی

گناہ کا شوق ہے اور عذاب کا بھی ڈر ہے ( ایک واقعہ ایک سبق)

گناہ کا شوق ہے اور عذاب کا بھی ڈر ہے  ( ایک واقعہ ایک سبق)

ایک شخص حضرت ابراہیم بن ادھمؒ کے پاس آیا، نوجوان تھا، کہتا ہے .
حضرت! گناہ کا مرتکب ہوتا ہوں، چھوڑا بھی نہیں جاسکتا، ڈر بھی لگتا ہے کہ عذاب ہو گا تو کوئی طریقہ بتا دیں کہ میں عذاب سے بچ جاؤں اور گناہ بھی کرتا رہوں۔ اللہ والے بڑے دانا بینا ہوتے ہیں، دھکے نہیں دیتے، وہ محبت و پیار سے بات سمجھاتے ہیں، دل میں اتارتے ہیں، حضرت نے فرمایا، ہاں، میں تجھے طریقہ بتاتا ہوں۔ وہ بڑا خوش ہو گیا۔ بات سننے کے موڈ میں آ گیا، کہنے لگا کہ حضرت! وہ کون سا طریقہ ہے کہ میں گناہ بھی کرتا رہوں اور عذاب و سزا سے بھی بچ جاؤں۔ آپ نے فرمایا کہ بھئی:
■پہلی تجویز: تو یہ ہے کہ اگر گناہ کرنا ہی ہے تو اللہ رب العزت کی نگاہوں سے اوجھل ہو کر کر لیا کرو۔
اب وہ سوچتا رہ گیا۔ کہنے لگا، حضرت! یہ کیسے ممکن ہے کہ میں اللہ رب العزت کی نگاہوں سے اوجھل ہو کر گناہ کروں یہ تو ممکن ہی نہیں۔
■دوسری تجویز: حضرت نے فرمایا، پھر دوسری تجویز یہ ہے کہ تم رزق کھانا چھوڑ دو، اللہ سے کہہ دینا کہ نہ تمہارا کھانا کھاتا تھا اور نہ تمہاری بات مانتا تھا، اس نے کہا، حضرت! یہ کیسے ممکن ہے کہ میں کھانا چھوڑ دوں؟ میں پھر زندہ کیسے رہوں گا؟
■تیسری تجویز: حضرت نے فرمایا، پھر تیسری تجویز پیش کرتا ہوں اور وہ یہ کہ زمین و آسمان اللہ رب العزت ہی کا ملک ہے، اسی کی حکومت میں ہے اور بادشاہ کی نافرمانی اس کے ملک میں رہ کر کرنا یہ ٹھیک نہیں ہے۔ لہٰذا اس سے باہر نکل کر نافرمانی کرنا، اللہ پاک بھی قرآن پاک میں عجیب انداز سے فرماتے ہیں۔ ’’اگر تمہارے اندر استطاعت ہے کہ زمین و آسمان کے کروں سے باہر نکل سکتے ہوتو نکل کر دکھلاؤ، نکلو گے کس دلیل سےنکلو گے۔‘‘ (سورہ رحمن:33)، جیسے گھڑے کی مچھلی کدھر جائے گی کہا کہ حضرت! یہ بھی نہیں ہو سکتا۔
■چوتھی تجویز: فرمانے لگے اچھا پھر ایک طریقہ اور بتاتا ہوں وہ یہ کہ جب ملک الموت آئیں روح قبض کرنے کے لیے تو انہیں کہہ دینا کہ تھوڑا انتظار کر لو تاکہ میں توبہ کر لوں، اس نے کہا: حضرت! وہاں تو انتظار کا تصور ہی نہیں۔ ’’جب موت آتی ہے تو نہ ایک لمحہ آگے ہوتی ہے اور نہ پیچھے۔‘‘
■پانچویں تجویز: فرمایا، ایک طریقہ اور بتاتا ہوں، وہ یہ کہ جب قبر میں تم کو دفن کر دیا جائے اور اس وقت منکر نکیر آئیں تم سے سوال پوچھنے کے لیے تم کہہ دینا (No Admission without permission) آج کل لوگ لکھ کر لگا دیتے ہیں، تو تم بھی کہہ دینا کہ بغیر اجازت کیوں آئے؟ اس نے کہا، حضرت! میں ان کو کیسے منع کر سکتا ہوں۔
■چھٹی تجویز: فرمانے لگے، اچھا بھئی! ایک اور طریقہ بتاتا ہوں وہ یہ کہ جب قیامت کے دن تمہارے برے عملوں کو کھولا جائے گا، اور پروردگار عالم فرشتوں کو حکم دیں گے کہ اس کو گھسیٹ کر تم جہنم میں ڈال دو تو اس وقت تم ضد کر کے کھڑے ہو جانا کہ میں تو نہیں جاتا۔ اس نے کہا کہ حضرت! میری کیا حیثیت ہے کہ فرشتوں کے سامنے ضد کر کے کھڑا ہو جاؤں، میری تو کوئی حیثیت ہی نہیں۔ اب لوہا گرم تھا اور چوٹ لگانے کا وقت تھا۔ حضرت نے فرمایا کہ اے بھائی، جب تیری حیثیت ہی کوئی نہیں تو اتنے بڑے پروردگار کی نافرمانی کیوں کرتا ہے؟
کہنے لگا، حضرت! آج سے میں گناہوں سے توبہ کرتا ہوں اور آج کے بعد وعدہ کرتا ہوں کہ اپنے اللہ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔
اللہ تعالٰی مجھ گناہ گار سمیت ہم سب مسلمانان عالم کو حیا اور پاکدامنی کا خیال رکھنے اور بے پردگی سے بچنے کی سعادت نصیب فرماتے ہوئے عین صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں ...