اشاعت کے باوقار 30 سال

ڈائٹنگ کے بغیر ہی کمر اور پیٹ آسانی سے کم کیجیے

ڈائٹنگ کے بغیر ہی کمر اور پیٹ آسانی سے کم کیجیے

کراچی: وزن میں زیادتی اور موٹاپے کا شکار افراد اکثر اپنے وزن میں کمی کرنے اور اپنی کمر اور پیٹ کو گھٹانے کے لیے کئی جتن کرتے نظر آتے ہیں جن میں سرفہرست ڈائٹنگ کرنا ہے۔ تاہم اب ان افراد کےلیے خوشخبری ہے کہ بغیر ڈائٹنگ کے بھی وزن میں کمی کر کے اسمارٹ ہونا نہایت آسان ہے۔ وزن کم کرنے اور ’’اسمارٹ‘‘ ہونے کےلیے ضروری ہے کہ آپ صحت بخش غذا کھائیے، خوش ہو کر کھانا کھائیے، چھوٹے نوالے لیجیے، ہر نوالے کو خوب اچھی طرح چبا کر کھائیے اور، سب سے بڑھ کر، جب پیٹ بھرنے کا احساس ہو تو کھانا چھوڑ دیجیے یعنی ذائقے کا مزا لینے کےلیے اپنی بھوک سے زیادہ ہر گز نہ کھائیے۔ یہ خلاصہ ہے اس تحقیق کا جو کچھ عرصہ پہلے کی گئی ہے۔
خواتین کے ساتھ مرد حضرات بھی موٹاپے کے باعث سخت پریشان نظر آتے ہیں اور موٹاپے میں کمی کرنے کے ساتھ اسمارٹ اور دبلا نظر آنے کے لیے دن رات کوششیں کرتے ہیں، جن میں ورزش کرنا اور ڈائٹنگ کرنا وغیرہ شامل ہے۔ تاہم ڈائٹنگ کے بعد وزن تو کم ہو جاتا ہے لیکن جسم مناسب غذا نہ ملنے کے باعث کمزوری کا شکار ہو جاتا ہے اور بعض واقعات میں ڈائٹنگ چھوڑنے کے بعد وزن میں ایک بار پھر تیزی سے اضافہ ہو جاتا ہے جو دوہری پریشانی کا سبب بنتا ہے۔ لیکن اب موٹے افراد کے لیے خوشخبری ہے کہ ڈائٹنگ کیے بغیر بھی وزن میں کمی لائی جا سکتی ہے اور آئیڈیل، متناسب اور خوبصورت جسم حاصل کیا جا سکتا ہے۔
حال ہی میں ہونے والی تحقیق کے مطابق وہ افراد جو ایک وقت میں صرف ایک کام پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں وہ اپنے اہداف کو پانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جن میں وزن میں کمی اور اسمارٹ کمر بھی شامل ہے۔ انٹرنیشنل جنرل آف بیہیورل میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق 47 سال تک کی عمر کے 400 مرد و خواتین کے وزن میں کمی کرنے والے اسباب جاننے کےلیے ایک تجربہ کیا گیا۔ ان تمام افراد نے اس تجربے کے لیے اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کی تھیں۔
ماہرین نے ان افراد کا وزن کیا، خاص طور پر ان کے پیٹ اور جسم کے نچلے حصے کے وزن پر خصوصی نظر رکھی گئی اور پھر انہیں 15 سوالات پر مشتمل سوالنامہ دیا گیا جو ان کی روزمرہ کی عادات جیسے کہ سگریٹ نوشی اور ان کی مجموعی ذہنیت کی درجہ بندی سے متعلق تھا۔ بعد ازاں ان افراد کی غذا، معمولات اور سگریٹ نوشی سمیت تمام عادات کو کنٹرول کیا گیا اور انہیں بری عادتوں سے بچاتے ہوئے صحت بخش غذا دی گئی۔ کھانا کھاتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ یہ ذائقے سے بھرپور ہو اور لوگ اسے کھاتے وقت ہر نوالے کا بھرپور مزہ لیں۔ یہی اس تحقیق کا سب سے اہم نکتہ تھا جس کی وجہ سے موٹے افراد کے وزن میں خاطر خواہ کمی آئی۔
اس تجربے میں ایک اور بات کا خیال رکھا گیا کہ کھانا کھاتے وقت تمام افراد خود کو بھرنے کے لیے نہیں بلکہ سکون سے کھائیں اور پیٹ بھرنے کے بعد زیادہ کھانے سے اجتناب برتیں۔ یہ طریقہ بھی وزن کم کرنے میں بہت مددگار ہوتا ہے۔ اس تجربے کے مثبت نتائج آئے اور وہ افراد جنہوں نے اپنے کھانے کی عادات کو تبدیل کیا تھا ان کے جسم کے درمیانی حصے میں چربی کم ہوئی جب کہ پیٹ اور کمر کا گھیر بھی بہت کم ہو گیا۔

loading...