اشاعت کے باوقار 30 سال

مسلمان ٹیکسی ڈرائیور نے ایمانداری کی نئی مثال قائم کر دی

مسلمان ٹیکسی ڈرائیور نے ایمانداری کی نئی مثال قائم کر دی

لندن: برطانیہ میں مسلمان ٹیکسی ڈرائیور نے معمر شخص کی جمع پونجی واپس کر کے ایمانداری کی نئی مثال قائم کر دی۔ برطانوی میڈیا کے مطابق نو سربازوں نے 78 سالہ شخص سے پیسے ہتھیانے کا منصوبہ بنایا جو ایماندار مسلمان ٹیکسی ڈرائیور کی بدولت مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔ اسٹون نامی برطانوی شہری کو فراڈیوں نے گھر کے نمبر پر فون کر کے خود کو اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس کا افسر ظاہر کیا اور ڈھونگ رچایا کہ وہ ملک میں ہونے والی بینک فراڈ کی تحقیقات کر رہے ہیں لہذا وہ فوری طور پر جمع شدہ رقم لے کر کسی ٹیکسی ڈرائیور کے پاس جمع کروا دیں۔ نوسربازوں نے ٹیکسی ڈرائیوز کا ایک جال بچھا رکھا تھا تاکہ جھانسے میں آنے والے لوگ اپنی رقم فراڈیوں کے کسی ٹیکسی ڈرائیور کے پاس ہی جمع کروائیں۔ بزرگ شہری بھی فراڈیوں کے جال میں پھنس گیا اور وہ اپنی جمع پونجی لے کر ٹیکسی میں سوار ہو گیا لیکن خوش قسمی جس ٹیکسی میں اسٹون نے سفر کیا وہ ایک مسلمان چلا رہا تھا۔ اسٹون نے ٹیکسی ڈرائیور عزی راشد کو 12 ہزار پاونڈ تھما دیے اور کہا کہ وہ اسے اپنے پاس رکھے۔ ٹیکسی ڈرائیور راشد نے بتایا کہ وہ اتنی بڑی رقم بنا وجہ ملنے پر اضطراب کا شکار ہو گیا اور سوچتا رہا کہ کسی طرح اس معاملے کی حقیقت تک پہنچ جاؤں۔ یہ میرے ایمان کا تقاضا ہے کہ شہری کے ساتھ ہونے والے اس دھوکے سے پولیس کو اطلاع کروں اور پیسے واپس اس کے مالک تک پہنچاؤں۔ ٹیکسی ڈرائیور پیسے لے کر پولیس اسٹیشن پہنچ گیا اور واقعہ سے آگاہ کیا۔ پولیس نے نوٹوں پر لگے فنگر پرنٹ کے ذریعے مالک کی شناخت کی اور ٹیکسی ڈرائیورکے ہمراہ اسٹون کے گھر پہنچ گئے۔ پولیس اور ٹیکسی ڈرائیور کو گھر پر دیکھ کر اسٹون حیرت زدہ رہ گیا لیکن اس وقت ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا جب ڈرائیور نے اسے پورے پیسے واپس کر دیے۔