اشاعت کے باوقار 30 سال

محلے کی مسجد سے جہاد کا فتویٰ جاری نہیں ہو سکتا

اسلام آباد : وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ کسی بھی اسلامی ملک کے اندر جہاد کا اعلان کرنا ریاست کا کام ہے ، ہر محلے کی مسجد سے جہاد کا فتویٰ جاری نہیں ہو سکتا، ہمارے ملک کے اندر سزا کا نظام فتاویٰ کی شکل میں دے دیا گیا ہے ، جس کا دل کرتا ہے اٹھ کر دوسرے پر کفر کا فتویٰ لگا دیتا ہے۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کسی بھی اسلامی ملک کے اندر جہاد کا اعلان کرنا ریاست کا کام ہے ، ہر محلے کی مسجد سے جہاد کا فتویٰ جاری نہیں ہو سکتا کیونکہ اگر اس طرح فتاویٰ جاری ہونا شروع ہو گئے تو پاکستان ایک میدان جنگ بن جائے، دشمن چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑوایا جائے اگر ہم نے آپس میں یکجہتی کا راستہ اختیار نہیں کیا تو ہمیں دشمن کی ضرورت نہیں ہو گی، ہمارے علماء آگے بڑھیں اور ان رجحانات کی بیخ کنی کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے اندر سزا کا نظام فتاویٰ کی شکل میں دے دیا گیا ہے ، جس کا دل کرتا ہے دوسرے کے قتل کا فتویٰ جاری کر دیتا ہے ، حالانکہ کسی کے قتل کا فیصلہ ہونا یا نہ ہونا صرف تعزیراتِ پاکستان کے تحت ہو سکتا ہے۔ پاکستان ایک اسلامی جمہوری ملک ہے جس کے کسی شہری کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ دوسرے شہری کے بارے میں قتل کا فتویٰ جاری کرے۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اگر کوئی کسی کے قتل کے فتاویٰ جاری کرے گا تو اس کے خلاف سائبر قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ جب کسی شخص نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان کا اعلان کر دیا تو کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ اس کے ایمان پر شک کرے۔ مذہبی منافرت پر مبنی سیاست گھناؤنا جرم ہے ہم نے اتحاد کے ساتھ دہشت گردی کو شکست دینی ہے ، اگر ہم باہم دست و گریباں رہے تو ہمیں اپنی تباہی کے لئے کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہے۔

loading...