اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

جارج واشنگٹن وفات پا گئے

جھل مگسی: درگاہ فتح پور میں خود کش بم دھماکہ

جھل مگسی: درگاہ فتح پور میں خود کش بم دھماکہ

کوئٹہ/جھل مگسی/ گنداواہ: بلوچستان کے ضلع جھل مگسی میں درگاہ فتح پور شریف میں خودکش حملے میں پولیس اہلکاروں سمیت 20 افراد جاں بحق جبکہ35 افراد زخمی ہو گئے جن میں کئی حالت نازک بتائی جاتی ہے خودکش حملے کے بعد مقامی ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف حکومت موثر اقدامات کر رہی ہے اور کسی بھی دہشتگردکو معاف نہیں کیا جائیگا تفصیلات کے مطابق جھل مگسی سے چار کلومیٹر دور واقع درگاہ فتح پور میں خودکش حملہ ہوا جہاں جمعرات کا روز رش ہونے کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ڈپٹی کمشنر اسداللہ کاکڑ نے واقعے میں 13 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے جبکہ اس میں 8 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکا درگاہ کے دروازے پر ہوا جبکہ اس میں زخمی ہونے والوں کو مقامی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے دھماکے کے بعد مقامی اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ترجمان حکومت بلوچستان انوارالحق نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خودکش حملہ آور کو روکنے کی کوشش پر پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ دھماکا خود کش تھا جس کے وقت درگاہ میں عرس کی تقریب جاری تھی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا۔ انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ عاشورہ کے دوران حملوں کے شدیدخطرات تھے۔ یاد رہے کہ یہ درگاہ کوئٹہ سے کوئی تین سو کلومیٹر دور جنوب میں واقع ہے۔ فتح پور کی اسی درگاہ پر 19 مارچ 2005 کو ایک خود کش دھماکہ ہوا جس میں 50 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے عینی شاہدین کے مطابق درگاہ فتح پور شریف میں حضرت سید رکھیل شاہ کی مزار کے قریب دوران محفل خود کش حملہ آور درگاہ کے اندر آنے کی کوشش کر رہا تھا جس کو دوران چینکنگ خود کش حملہ آور نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں سولہ افراد ہلاک اور انتیس افراد زخمی ہو گئے واقع کی اطلاع ملتے ہی گنداواہ پولیس، ایس ایس پی جھل مگسی محمد اقبال اور ڈی سی جھل مگسی اسداللہ کاکڑ واقع کی جگہ پر پہنچ گئے اور لاشوں اور زخمیوں کو سول ہسپتال گنداواہ منتقل کیا گیا جبکہ شدید زخمیوں کو لاڑکانہ، ڈیرہ مراد اور سبہ منتقل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق یہ دھماکہ خود کش تھا۔

loading...