اشاعت کے باوقار 30 سال

کم عمر لڑکیوں کی شادی میں ملوث امام قانون کے شکنجے میں

کم عمر لڑکیوں کی شادی میں ملوث امام قانون کے شکنجے میں

قاہرہ: مصر میں وزارت اوقاف نے شیخ فرج مصطفی فرج صقر نامی امام و خطیب کو فرائض سر انجام دینے اور مسجد کا منبر سنبھالنے سے روک دیا ہے۔ شیخ پر 27 کم عمر لڑکیوں کی شادی میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق وزارت اوقاف نے مذکورہ امام کو مساجد میں خطابت سے روک دیا اور انہیں انضباطی کمیٹی کے سامنے پیش کیا تاکہ انتظامی طور پر مورود الزام ٹھہرائے جانے کے بعد شیخ کے خلاف عدالتی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ وزارت نے اپنے تمام ملازمین بالخصوص آئمہ کو خبردار کیا کہ وہ نکاح خوانی کے حوالے سے کوئی کارروائی انجام نہ دیں کیوں کہ یہ کام صرف وزارت کی جانب سے اجازت یافتہ سرکاری نکاح خوانوں کا ہے۔ ادھر استغاثہ کے سرکاری ترجمان محمد سمیر نے بتایا کہ استغاثہ کی سربراہ فریال قطب نے مصر کے صوبے غربیّہ کے شہر المحلہ الکبری کے نواحی گاؤں کی مسجد الاربعین کے امام کو فوری طور پر قانونی کارروائی کے لیے عدالت میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امام پر ایسی 27 لڑکیوں کی شادی کروانے کا الزام ہے جو قانونی طور پر شادی کی عمر کو نہیں پہنچی تھیں جب کہ یہ کارروائی گاؤں کی رہائشی ایک خاتون کی شکایت پر عمل میں آئی ہے جس کا کہنا تھا کہ مذکورہ مسجد کے امام نے اس کی بیٹی سمیت کئی لڑکیوں کی رواجی شادی کرائی ہے جب کہ قانوناً ابھی ان کی شادی کی عمر نہیں ہوئی ہے۔ خاتون کے مطابق امام نے اس شادی کو حلال قرار دیتے ہوئے گاؤں میں سرکاری نکاح خواں سے ان بچیوں کے نکاح پڑھوا دئے۔

loading...