اشاعت کے باوقار 30 سال

آرمی چیف اور افغان صدر کی ملاقات

آرمی چیف اور افغان صدر کی ملاقات

راولپنڈی،کابل: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی جس میں دہشت گردی کے خاتمے سمیت خطے کی مجموعی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا جب کہ دونوں ممالک کے درمیان پائے جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ایک روزہ دورہ پر کابل پہنچے جہاں ان کا افغان ہم منصب نے استقبال کیا اور آرمی چیف کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغان صدر اشرف غنی سے صدارتی محل میں ون آن ون اور وفود کی سطح پر ملاقات کی۔ افغان میڈیا کے مطابق افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات میں آرمی چیف نے دو طرفہ تعلقات، خطے میں سیکیورٹی کی صورت حال اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پر تبادلہ خیال کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے افغان صدر کو افغان فورسز کی تربیت کی پیشکش کی جب کہ افغان صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان دوست ہیں اور دونوں ممالک کو امن و استحکام کے لیے ساتھ مل کر چلنا چاہیے۔ آرمی چیف اور افغان صدر کے درمیان ملاقات میں نان اسٹیٹ ایکٹرز کو روکنے پر بھی گفتگو ہوئی جب کہ مشترکہ خطرات سے نمٹنے اور دیرپا امن کے حوالے سے بھی تبادلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ انٹیلی جنس، عوامی رابطوں اور تجارت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق ملاقات میں افغانستان و علاقائی امن کے لیے سیاسی عمل کے فریم ورک پر اتفاق ہوا جب کہ دونوں ممالک کے درمیان پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات جاری رکھنے پر بھی اتفاق ہوا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وفود کی سطح پر ملاقات میں سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور افغانستان میں تعینات پاکستانی سفیر بھی شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ ڈی جی ملٹری آپریشنز، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور اور آئی ایس آئی چیف بھی آرمی چیف کے ہمراہ تھے۔ افغان وفد میں افغان نائب صدر، فرسٹ ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آفیسر، افغان وزیر داخلہ و خارجہ اور این ڈی ایس چیف بھی شریک ہوئے۔ میڈیا رپو رٹ کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے ٹاسک ٹیمیں بنانے پر اتفاق کیا گیا۔افغان خبر ایجنسی طلوع کی رپورٹ کے مطابق جنرل قمر باجوہ اور اشرف غنی کے درمیان صدارتی محل کابل میں ملاقات ہوئی جہاں دو طرفہ تعلقات، امن و استحکام، انسداد دہشت گردی کے لیے کوششوں، کاروباری اور دیگر تعلقات زیر بحث آئے۔ اشرف غنی نے اس ملاقات کو افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کا ایک نیا سیشن قرار دیا اور کہا کہ تعاون کے لیے اچھے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں جس سے دونوں ممالک کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔جنرل قمر باجوہ کی سربراہی میں پاکستانی وفد نے کہا کہ اسلام آباد انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں افغانستان کی مدد کے لیے تیار ہے جو دونوں کے لیے مشترکہ خطرہ ہے۔ پاکستانی وفد نے کہا کہ وہ افغانستان کی سربراہی میں امن کوششوں میں تعاون کرنے کو تیار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق افغان صدر نے مختلف شعبوں میں تعاون پر فریم ورک کے لیے ٹاسک ٹیمیں بنانے پر اور اس حوالے سے عملی اقدامات اٹھانے پر زور دیا۔ اشرف غنی کا کہنا تھا کہ اس پر عمل درآمد کے لیے دونوں جانب سے مانیٹرنگ کے نظام کو مؤثر بنانا چاہیے اور اس کے لیے ایک مقررہ حد بھی طے ہونی چاہیے۔ پاکستانی وفد نے ٹاسک ٹیم بنانے، عملی اقدامات کے مسودے پرکام کرنے کے لیے رضامندی کا اظہار کیا۔ افغان صدر نے کہا کہ امن اور استحکام پاکستان، افغانستان میں عوام کی بہتری، غربت مٹانے کے لیے اہم ہے۔ جاری اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے ماضی کو بھلا کر بہتر مستقبل کے لیے سخت محنت کرنے پر اتفاق کیا۔ واضح رہے کہ 2 روز قبل امریکی وزیر دفاع جم میٹس اور نیٹو سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے بھی افغانستان کے صدر اشرف غنی سے ملاقات کی تھی۔ افغان میڈیا کے مطابق جم میٹس اور جینز اسٹولٹن برگ نے عزم کیا کہ افغانستان کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہیں بننے دیا جائے گا۔ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر اشرف غنی نے خطے کے ممالک سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کا مطالبہ بھی کیا۔

loading...