اشاعت کے باوقار 30 سال

افغان فضائیہ کی اپنے ہی فوجیوں پر بمباری

افغان فضائیہ کی اپنے ہی فوجیوں پر بمباری

قندھار: افغانستان کے صوبے ہلمند میں افغان فضائیہ نے زمین پر موجود اپنے ہی فوجی اہل کاروں پر بمباری کر دی جس کے نتیجے میں 10 اہل کار ہلاک اور 9 زخمی ہو گئے۔ جب کہ صوبہ اروزگان میں اٖفغان طالبا ن نے فوجی بیس پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا ،غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق افغانستان کے شورش زدہ صوبے ہلمند کے ضلع گرشک میں گزشتہ کئی روز سے طالبان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری تھیں اور اس لڑائی میں زمینی افواج کی معاونت کے لیے فضائی کارروائی کی گئی تاہم غلطی سے اس کا نشانہ افغان فورسز کے اہل کار ہی بن گئے۔ ہلمند کے گورنر حیات اللہ حیات نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ افغان فضائیہ کی بمباری کے نتیجے میں 10 اہل کار ہلاک اور 9 زخمی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، یہ فضائی حملہ اس جگہ کیا گیا جہاں گزشتہ کئی روز سے طالبان کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ خیال رہے کہ دو ماہ قبل اسی ضلع میں امریکی فضائیہ کی بمباری سے 16 افغان اہل کار ہلاک ہو گئے تھے۔ ہلمند کے ضلع گرشک کے زیادہ تر علاقوں پر طالبان کا کنٹرول ہے۔ ادھرصوبہ اروزگان میں طالبان نے حملہ کر کے فوجی اڈے پر قبضہ کر لیا جس کے نتیجے میں 20 سیکورٹی اہل کار لاپتہ ہو گئے۔ افغان میڈیا کے مطابق عسکریت پسندوں نے اروزگان کے ضلع چورہ کے مرکز میں واقع فوجی اڈے پر دھاوا بول دیا۔ افغان فورسز سے شدید جھڑپوں کے بعد عسکریت پسند فوجی بیس پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے جس کے بعد سے پولیس اور فوج کے 20 اہل کار لاپتہ ہیں۔ ضلع چورہ کے ایڈمنسٹریٹر امین اللہ خلیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نیازو کے علاقے میں جنگجوؤں نے فورسز سے شدید لڑائی کے بعد بیس پر قبضہ کر لیا ہے اور 20 اہل کار لاپتہ ہیں۔ امین اللہ خلیقی نے کہا کہ اڈے کا قبضہ چھڑانے اور لاپتہ اہل کاروں کو ڈھونڈنے کے لیے تاحال مرکز سے کوئی مدد نہیں پہنچی۔صوبائی کونسل کے رکن حیات اللہ فضلی نے امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مدد نہ پہنچی تو پورے ضلع پر عسکریت پسندوں کا قبضہ ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب طالبان نے ضلع پر قبضہ اور متعدد سیکورٹی اہل کاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

loading...