اشاعت کے باوقار 30 سال

طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی

طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی

گلبرگہ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان مولانا سجاد نعمانی کا کہنا ہے کہ یکم اکتوبر کو دہلی میں مسلم پرسنل لا بورڈ کی اعلیٰ سطحی میٹنگ رکھی گئی ہے۔ طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لینے کیلئے تشکیل دی گئی کمیٹی کے ارکان کے ساتھ یہ میٹنگ رکھی گئی ہے۔ مولانا کے مطابق طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے تعلق سے میٹنگ میں کوئی ٹھوس موقف اختیار کیا جائے گا۔ مولانا کا ماننا ہے کہ بورڈ کو مزید توسیع دینے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ بورڈ کا ڈھانچہ ہر طریقے سے توازن کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ گلبرگہ میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے امور سے متعلق مولانا سجاد نعمانی نے کہا کہ قانونی و شرعی نقطہ نظر سے بورڈ نے ایمانداری سے مقدمہ لڑا۔ بورڈ کے قابل وکلا نے توقع سے بڑھ کر پیروی کی ۔ سپریم کورٹ کے ججز میں بھی طلاق ثلاثہ پر اتفاق نہیں ہو سکا، دوججز کی رائے الگ تھی اور تین کی الگ ۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے بورٖڈ کے تمام دلائل کو تسلیم کیا اور موقف کو صحیح گردانا۔ اس لیے سپریم کورٹ کے فیصلے سے ناامید ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔
سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت نے اپنے من کی بات رکھی ۔ مرکزی حکومت تو نہ صرف طلاق ثلاثہ بلکہ طلاق حسن اور طلاق احسن کے بھی خلاف ہے ۔ سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل نے بینچ کے روبرو ایسی ہی بات رکھی تو بینچ نے پوچھا پھر تو مسلم شوہر کے پاس طلاق کا راستہ ہی نہیں ہو گا ۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمنٹ جلد ہی اس پر قانون بنائے گی۔ اسی لیے ہم نے طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی کی میٹنگ بلائی ہے ۔ مولانا نے کہا کہ حلالہ، متعہ، وراثت کو ملک کے اصل مسائل اور موضوعات سے توجہ ہٹانے کے لئے اٹھایا جا رہا ہے ۔ مہنگائی، بے روزگاری، ناقص نظم ونسق سے توجہ ہٹانے کی یہ حکومت کی کوشش ہے ۔
مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے مسلمانوں میں شریعت کے تعلق سے شعور بیدار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ مسلمانوں میں عائلی نظام کے تعلق سے شعور بیدار کیا جائے گا ۔ لیکن ہر مسئلے پر مسلم پرسنل لا بورڈ ہی قدم اٹھائے ضروری نہیں، دیگر ملی کاموں کے لئے ملک میں کئی ملی تنظیمیں موجود ہیں۔ مسلم پرسنل لا بورڈ از خود جماعت نہیں، تمام جماعتوں کی نمائندہ جماعت ہے ۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کا دائرہ کار مختصر ہے۔ بورڈ اپنے متعین دائرہ کار میں اپنے دستور کی روشنی میں کام کر رہا ہے ۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کی توسیع کو مولانا سجاد نعمانی نے مسترد کر دیا ۔ انہوں نے کہا کہ عام ممبر سازی کی بورڈ کا دستور اجازت نہیں دیتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ بورڈ کے ڈھانچے کا توازن جماعت، مسلک، تحریک، لسانی وریاستی پہلوئوں کو نظر میں رکھ کر بنایا گیا ہے ۔ اصحاب رائے کو خصوصی مدعوئین کے طور پر شامل کیا جاتا ہے ۔

loading...