اشاعت کے باوقار 30 سال

ایٹمی توانائی کو پرامن مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں

ایٹمی توانائی کو پرامن مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں

تہران : ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکہ اس ایٹمی معاہدے سے دستبردار ہو جائے گا جس کے تحت ایران کی ایٹمی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ تاہم جواد ظریف نے یہ بھی کہا کہ انھیں امید ہے کہ یورپ اس معاہدے کو زندہ رکھنے میں کردار ادا کرے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے کے سخت خلاف ہیں، اور وہ اسی ماہ اقوامِ متحدہ سے خطاب میں اسے شرمندگی قرار دے چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ اگلے ماہ اس بات کی تصدیق کریں گے کہ آیا ایران ایٹمی معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے یا نہیں۔ اگر انھوں نے فیصلہ نفی میں دیا تو پھر امریکی کانگریس ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دے گی۔ فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے حال ہی میں اس معاہدے کا دفاع کیا ہے، جب کہ روس اور چین بھی اس کے حامی ہیں۔ ایک انٹرویو میں جواد ظریف نے کہا کہ اگر معاہدہ ختم ہو گیا تو ایران یورینیئم کی افزدوگی، سینٹری فیوجز کی تعداد اور پلوٹونیئم کی تیاری پر عائد پابندیوں کی پاسداری نہیں کرے گا۔ تاہم انھوں نے اصرار کیا کہ ان کا ملک ایٹمی توانائی کو صرف پرامن مقاصد کے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ انھوں نے نیویارک میں فائنینشل ٹائمز اور گارڈین کو بتایا کہ 'میرا اندازہ یہ ہے کہ ٹرمپ تصدیق نہیں کریں گے، اور وہ کانگریس کو فیصلہ کرنے دیں گے۔ اس معاہدے کے تحت ایران کو اجازت ہے کہ وہ تحقیق جاری رکھے۔ اس لیے ہم نے اپنی ٹیکنالوجی بہتر بنائی ہے۔ اگر ہم معاہدے کو ترک کرتے ہیں تو ہمیں بہتر ٹیکنالوجی کے ساتھ ایسا کرنا چاہیے۔ جواد ظریف نے کہا کہ ایران کے پاس موجود راستوں کا انحصار اس بات پر ہے کہ بین الاقوامی برادری امریکہ سے کیسے نمٹتی ہے۔ اگر یورپ، جاپان، روس اور چین امریکہ کے ساتھ جانے کا فیصلہ کریں تو پھر میرے خیال سے معاہدہ ختم ہو جائے گا۔' انھوں نے مزید کہا: یورپ کو قیادت سنبھالنی چاہیے۔ یورپی یونین کے حکام نے کہا ہے کہ اگر امریکہ دوبارہ پابندیاں عائد کر دیتا ہے تو وہ ایران میں اپنے مفادات کا قانونی طریقے سے تحفظ کر سکتے ہیں۔

loading...