اشاعت کے باوقار 30 سال

فرانس میں مونا لیزا کے برہنہ سکیچ کی دریافت

فرانس میں مونا لیزا کے برہنہ سکیچ کی دریافت

پیرس: فرانس میں فن مصوری کے ایک ماہر نے کہا ہے کہ چارکول کی وہ ڈرائنگ، جو ایک آرٹ کلیکشن میوزیم میں 150 برس سے بھی زیادہ مدت سے رکھی ہوئی تھی، مونا لیزا کا ہی ایک سکیچ ہو سکتا ہے۔ مونا ونا کے نام سے معروف ایک برہنہ خاتون کے چارکول کے اس پورٹریٹ کے بارے میں اب تک یہی کہا جاتا رہا تھا کہ اس کا تعلق لیونارڈو ڈا ونچی کے سٹوڈیو سے ہے۔لیکن اب ماہرین کو ایسے کافی اشارے ملے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ کہ شاید مصور لیونارڈو ڈا ونچی نے ہی مونا لیزا کی پینٹنگ بنانے سے پہلے یہ سکیچ بنایا ہو گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پیرس میں لور میوزیم میں ٹیسٹ کے بعد آرٹ کے تحفظ پر مامور ماہرین کا خیال ہے کہ اس سکیچ پر کم سے کم جزوی طور پر تو لیونارڈو نے کام کیا ہے۔ یہ ڈرائنگ 1862 سے پیرس کے شمال میں ایک میوزیم میں نشاۃ ثانیہ کے دور کے مصوری کے دیگر فن پاروں کے ساتھ ہی رکھی ہوئی تھی۔ کیوریٹر میٹیؤ ڈیلڈک نے بتایا کہ ڈرائنگ کی ایک کوالٹی یہ ہے کہ جس طریقے سے اس کا ہاتھ اور چہرہ بنایا گیا وہ غیر معمولی بات ہے۔ لور میوزیم میں ایسے فن پاروں کی حفاظت پر مامور اور اس کے ماہر برنو موٹن نے اس بات کی تصدیق کی ہے مذکورہ سکیچ 16ویں صدی کے آغاز میں مصور لیونارڈو کے دور کا ہی ہے اور بہت اچھی کوالٹی کا ہے۔ شانٹلی سٹیٹ نے اس ڈرائنگ پر ہونے والے کام کی ایک تصویر بھی پوسٹ کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اس سکیچ اور مونا لیزا کی اصل پینٹنگ کے ہاتھوں اور جسم کی بناوٹ میں تقریبا یکسانیت ہے۔ دونوں ہی پورٹریٹ تقریبا ایک ہی سائز کے ہیں۔اطالوی مصور لیونارڈو ڈا ونچی اٹلی کے نشاۃ ثانیہ کے دور کے ایک عظیم مصور تھے اور ان کی مونا لیزا کی شہرہ آفاق پینٹنگ ایک ایسا فن پارہ ہے جسے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کپڑے کے ایک کاروباری فرانسیسکو ڈی جیوکونڈو نے اپنی اہلیہ لیزا گریڈنی کا پورٹریٹ بنانے کے لیے ڈا ونچی سے کہا گیا تھا۔

loading...