اشاعت کے باوقار 30 سال

ایران نے دباؤ قبول کر لیا

ایران نے دباؤ قبول کر لیا

تہران: ایران نے عالمی برادری کی طرف سے مشکوک جوہری اور فوجی تنصیبات کے معائنے کے مطالبے کے حوالے سے دباؤ قبول کرتے ہوئے عالمی توانائی ایجنسی کو اپنی جوہری تنصیبات کی معائنہ کاری کی اجازت دینے کا فیصلہ کر لیا ۔ نیویارک میں ایشیائی ریسرچ آرگنائزیشن سینٹر کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ ان کا ملک فوجی اور جوہری پروگرام کے حوالے سے متنازع سمجھی جانے والی تنصیبات کو عالمی معائنہ کاروں کے لیے کھولنے کو تیار ہے۔جواد ظریف نے یہ بات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے جواب میں کہی جس میں ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے پر نظر ثانی کرسکتا ہے۔ایرانی وزیرخارجہ کے تازہ بیان سے ایک روز پیشتر عالمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا امانو نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ جوہری معاہدے کے حوالے سے شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے نہ صرف حساس تنصیبات تک عالمی معائنہ کاروں کو رسائی دے بلکہ ان تنصیبات کی کڑی نگرانی کی اجازت فراہم کرے تاکہ اس امر کی تصدیق کی جا سکے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہیں کر رہا ہے۔ تاہم ایران کی طرف سے کسی قسم کی لچک کا مظاہر نہیں کیا گیا تھا۔ ایران کی جانب سے جوہری تنصیبات کی معائنہ کاری کے حوالے سے لچک کا مظاہرہ کرنے کے باوجود امریکی صدر ٹرمپ 15 اکتوبر تہران کے ساتھ طے پائے سمجھوتے کے حوالے سے اہم فیصلہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

loading...