اشاعت کے باوقار 30 سال

نابالغ لڑکیوں کی کنٹریکٹ شادیاں کروانے کا الزام

نابالغ لڑکیوں کی کنٹریکٹ شادیاں کروانے کا الزام

حیدرآباد: خلیجی ممالک کے معمر عرب شہریوں سے شہر حیدرآباد کی نابالغ لڑکیوں کی کنٹریکٹ شادیاں کروانے کے الزام میں گرفتار قاضی علی عبداللہ رفاعی سے پولیس پوچھ گچھ کر رہی ہے تاکہ کم عمر لڑکیوں کی معمر عرب شہریوں سے شادیوں کے نیٹ ورک اور اس کے کام کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکے۔ رفاعی کو کل رات دیر گئے پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ گزشتہ ہفتہ عرب شہریوں کے علاوہ ممبئی کے صدر قاضی اور مقامی دلالوں کی گرفتاری کے دوران عبداللہ رفاعی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ پولیس نے کل رات دیر گئے فلک نما،چندرائن گٹہ ،تالاب کٹہ کے علاقوں میں مختلف قاضیوں کے مکانات کی ایک ساتھ تلاشی لی اور علی عبداللہ رفاعی کے ساتھ ساتھ دیگر بروکرز اور عرب شہریوں کو بھی حراست میں لے لیا۔ ڈی سی پی وی ستیہ نارائنا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رفاعی کے خلاف پی ڈی ایکٹ لگایا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ رفاعی کے پاس سے کنٹریکٹ شادیوں کے اہم دستاویزات بھی پولیس نے ضبط کر لئے ہیں۔ چندرائن گٹہ کے انسپکٹر نے کہا کہ قاضی کنٹریکٹ شادیوں میں ملوث تھے۔ انہوں نے کہا کہ پرانے شہر کے غریب افراد سے بروکر رابطہ کرتے ہوئے ان معمر عرب شہریوں سے ان غریب لڑکیوں کی شادی کرواتے تھے جس کے لئے ان غریب خاندانوں کو رقم دی جاتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جیو ٹیگنگ کے ذریعہ ان دلالوں کے گھروں پر نظر رکھی گئی تھی اور ان کی نقل و حرکت پر بھی نگرانی رکھی گئی تھی۔ دوسری طرف گرفتار علی عبداللہ رفاعی نے کسی بھی معمر عرب شیخ سے نابالغ لڑکی کی شادی کروانے کی تردید کی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی جانب سے ایک بھی کنٹریکٹ شادی کروانے کا ثبوت پیش کر دیا جائے تو وہ قضاۃ ہی چھوڑ دیں گے۔ انہوں نے اس سارے معاملہ کو ان کے خلاف سازش قرار دیا۔

loading...