اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

جاپانی وزیر اعظم کا قبل از وقت انتخابات کرانے کا فیصلہ

جاپانی وزیر اعظم کا قبل از وقت انتخابات کرانے کا فیصلہ

ٹوکیو : جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے نے پارلیمنٹ تحلیل کرکے قبل از وقت انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔جاپانی وزیر اعظم نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ 28 ستمبر جمعرات کے روز اسمبلی توڑ دیں گے اور پھر نئے الیکشن کرائیں گے۔ اپنے اس اقدام کی وجہ بتاتے ہوئے شنزو آبے نے کہا کہ قومی بحران پر قابو پانے کے لیے نیا مینڈیٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔جاپانی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے مسلسل ایٹمی تجربات کے متعلق بھی سخت موقف اختیار کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے پارلیمنٹ کی اکثریت کی حمایت درکار ہے۔ شنزو آبے کے اتحادی سیاست دان ناتسو یاماگوچی نے بتایا کہ جاپان میں الیکشن 22 اکتوبر کو کرائے جانے کا امکان ہے۔ شمالی کوریا اور جاپان کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے ساتھ ہی شنزو آبے کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوا ہے جب کہ اس سے قبل کئی ماہ سے اقربا پروری اور غیرمقبول پالیسیوں کی وجہ سے ان کی مقبولیت کافی کم ہو گئی تھی۔ ملک میں کرائے گئے رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق حال ہی میں شنزو آبے کی عوامی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوا ہے جو 30 سے بڑھ کر 50 فی صد ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق جاپانی وزیر اعظم نے قبل از وقت الیکشن کا فیصلہ کر کے سیاسی جوا کھیلا ہے جس میں پانسہ پلٹ بھی سکتا ہے اور ناکامی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے جس کے نتیجے میں ملک میں سیاسی خلا پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ اپوزیشن جاپانی وزیر اعظم کو اقربا پروری کے الزام میں تنقید کا نشانہ بھی بناتی ہے۔ شنزو آبے کی آئین میں ترمیم کی دیرینہ خواہش ہے کیونکہ جاپانی آئین جنگ میں شرکت اور کسی ملک سے الجھنے کی اجازت نہیں دیتا اور اسی مقصد کے تحت جاپان میں جنگی مقاصد کے لیے مسلح افواج نہیں بنائی جاتیں۔ تاہم شنزو آبے آئین میں فوج کو جنگی کردار دلوانے کے خواہاں ہیں۔

loading...