اشاعت کے باوقار 30 سال

مسلم لڑکے کے ساتھ چائے پینے پر لڑکی پر تشدد

مسلم لڑکے کے ساتھ چائے پینے پر لڑکی پر تشدد

علی گڑھ: بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کی رہنما نے لڑکی کو مسلم لڑکے کے ساتھ چائے پینے پر تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویٰ کرنے والا بھارت انتہا پسندی کی وجہ سے عالمی توجہ کا مرکز بنا رہتا ہے جہاں مسلمانوں اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو کسی نہ کسی بہانے مشکلات سے دو چار کیا جاتا رہتا ہے جب کہ انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمان پر تو ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔ بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہرعلی گڑھ میں بی جے پی کی وومن ونگ سے تعلق رکھنے والی رہنما سنگیتا وارشے نے لڑکی کو اُس وقت تشدد کا نشانہ بنایا جب وہ ہوٹل پر ایک لڑکے کے ساتھ چائے پی رہے تھی۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوام نے سنگینا وارشے کوشدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ بی جے پی رہنما لڑکی پر تھپڑوں کی بارش کر رہی ہے اور لڑکی کو بار بار کہ رہی ہے ’’کیا تمہیں پتہ نہیں کون ہندو ہے اور کون مسلم‘‘۔ لیکن اس سے بھی حیران کن بات یہ ہے کہ پولیس نے بی جے پی رہنما کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بجائے مسلم لڑکے کو گرفتار کر لیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کا پبلک مقام پر نازیبا حرکات کرنا قانون کی خلاف ہے جب کہ لڑکی اور ان کے والد نے کسی کے خلاف کوئی پرچہ نہیں کروایا اور نہ ہی کوئی تحریری شکات کی ہے۔ میڈیا کے رابطہ کرنے پر بی جے پی رہنما سنگیتا وارشنے کا کہنا تھا کہ ان کو مسلمانوں سے کوئی مسئلہ نہیں لیکن مسلمان لڑکے ہندو لڑکیوں کو ورگلاتے ہیں اور جو کچھ انہوں نے کیا انہیں اس پر فخر ہے، اور دوبارہ ایسا کرنے پر بھی مجھے کوئی شرمندگی نہیں ہو گی

loading...