اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

بروٹس نے خود کشی کر لی

پاکستانی بیٹنگ لائن کو گھر بیٹھے زنگ لگنے لگا

پاکستانی بیٹنگ لائن کو گھر بیٹھے زنگ لگنے لگا

لاہور: پاکستانی بیٹنگ لائن کو گھر بیٹھے زنگ لگنے لگا، سری لنکا سے سیریز کی تیاری کے لیے قذافی اسٹیڈیم میں منعقدہ پریکٹس میچ میں سمیع اسلم اور شان مسعود کے سوا کسی کی کارکردگی متاثر کن نہ رہی۔ احمد شہزاد نے 30 رنز بنائے، حارث سہیل 20، اسد شفیق 13، کپتان سرفراز احمد 5، عثمان صلاح الدین 4 اور بابر اعظم ایک رن تک محدود رہے، محمد رضوان 25 پر ناقابل شکست پویلین لوٹے، ٹیسٹ کپتان کی ٹیم گرینز نے صرف 91 رنز کے سفر میں 6 وکٹیں گنوائیں، حسن علی 3 وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر ثابت ہوئے۔
تفصیلات کے مطابق سری لنکا سے ٹیسٹ سیریز کی تیاری کے لیے قومی کرکٹرز کا تربیتی کیمپ ہفتے کی صبح 2 گھنٹے کے ٹریننگ سیشن کے ساتھ ختم ہو جائے گا، ہیڈ کوچ آرتھر نے 2 ٹیمیں تشکیل دے کر پریکٹس میچ کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ سرفراز احمد کی قیادت میں پی سی بی گرینز تشکیل دی گئی، دیگر کھلاڑیوں میں احمد شہزاد، حارث سہیل، عثمان صلاح الدین، محمد عامر، محمد عباس، محمد اصغر، میر حمزہ، محمد عرفان (لیگ اسپنر)، علی مصطفی اور حسنات عباس شامل تھے۔
وائٹس کا کپتان اسد شفیق کو بنایا گیا، ان کو سمیع اسلم، شان مسعود، بابر اعظم، محمد رضوان، بلال آصف، یاسر شاہ، وہاب ریاض، حسن علی، سیف الرحمان اور قمر عباس کی خدمات حاصل تھیں، ٹیمیں پوری کرنے کے لیے مقامی کرکٹرز کو بھی شامل کیا گیا۔ جمعرات کو پہلے روز پی سی بی وائٹس نے چائے کے وقفے تک 27 اوورز میں بغیر وکٹ گنوائے 82 رنز بنائے، شان مسعود 41 اور سمیع اسلم 40 پر ناقابل شکست تھے کہ بارش نے مداخلت کر دی اور کھلاڑی نیشنل کرکٹ اکیڈمی لوٹ گئے، پی سی بی وائٹس نے گزشتہ روز اپنی اننگز کا دوبارہ آغاز کیا تو اوپنر سمیع اسلم ففٹی مکمل کرنے کے بعد اور شان مسعود 43 رنز پر ریٹائر ہو گئے، اسد شفیق 13 رنز بنا سکے تھے کہ محمد عباس نے بولڈ کر دیا، بابر اعظم صرف ایک رن بنانے کے بعد محمد اصغر کا شکار بن گئے، بلال آصف (3) کو محمد عامر نے چلتا کیا، محمد رضوان 25 رنز پر ناقابل شکست رہے، وائٹس نے 55 اوورز میں 3 وکٹ پر 144 رنز بنا کر اننگز ڈیکلیئرڈ کر دی۔
عامر، محمد عباس اور محمد اصغر نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ جواب میں پی سی بی گرینز کی اننگز تباہی کا شکار نظر آئی، حارث سہیل 20 رنز بنا کر حسن علی کی وکٹ ثابت ہوئے، عثمان صلاح الدین 4 رنز بنا کر بلال آصف کا شکار بنے، کپتان سرفراز احمد (5) کو حسن علی نے دھر لیا، احمد شہزاد کی 30 رنز کی مزاحمت یاسر شاہ نے ختم کر دی، محمد اصغر بغیر کوئی رن بنائے حسن کو وکٹ دیکر پویلین لوٹے، عرفان جونیئر 11 رنز بنا سکے، ان کا شکار معاونت کے لیے بلائے گئے بولر سیف نے کیا، گرینز ٹیم کھیل کے اختتام تک 37.4 اوورز میں 6 وکٹیں گنوا کر صرف 91 رنز بنا سکی، حسن علی دونوں ٹیموں میں سب سے کامیاب بولر رہے، پیسر نے 8 اوورز میں 19 رنز کے عوض 3 شکار کیے۔ یاسرشاہ، بلال آصف اور سیف الرحمان نے 1، 1 وکٹ اڑائی، وہاب ریاض کوئی کامیابی نہ حاصل کر پائے۔ یاد رہے کہ قومی ٹیم نے دورہ ویسٹ انڈیز کے بعد کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں کھیلی، چیمپئنز ٹرافی کے بعد اگلی مصروفیت ورلڈ الیون سے سیریز کے ٹی ٹوئنٹی میچز تھے، طویل فارمیٹ میں نئے کپتان سرفراز احمد کو یونس خان اور مصباح الحق جیسے تجربہ کار بیٹسیمنوں کی خدمات بھی حاصل نہیں ہیں، پریکٹس میچ میں بڑے ناموں کی مایوس کن کارکردگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں فارغ وقت میں بیٹنگ لائن کو لگا زنگ اتارنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔