اشاعت کے باوقار 30 سال

پارکنسن کے مریضوں کے لیے اسمارٹ چھڑی

پارکنسن کے مریضوں کے لیے اسمارٹ چھڑی

لندن: برسٹل میں یونیورسٹی آف ویسٹ انگلینڈ (یوڈبلیو ای) میں زیرِ تعلیم پاکستان کی ہونہار طالبہ نیہا چوہدری نے پارکنسن کے مریضوں کے لیے ایک اسمارٹ چھڑی بنائی ہے جس سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد استفادہ کر سکتے ہیں۔ تفصیل کےمطابق نیہا چوہدری کے دادا پارکنسن کے مرض میں مبتلا تھے اور گزشتہ سات برس تک ان کے والد کے جوڑ سخت ہو جاتے تھے جس سے وہ بار بار گر کر زخمی ہو جاتے تھے۔ اسی مناسبت سے یہ چھڑی مریض کے جوڑ میں اکڑن اور سختی محسوس کر کے ارتعاش پیدا کرتی ہے اور مریض دوبارہ بحال ہو کر پھر سے چلنے لگتا ہے۔ نیہا نے یو ڈبلیو ای میں گریجویشن کے دوران یہ چھڑی تیار کی تھی جس سے خود برطانیہ کے 125000 پارکنسن مریض استفادہ کر سکتے ہیں اور یہ اسٹک عضلات اچانک جامد ہو جانے پر تھرتھراہٹ پیدا کر کے مریض کو دوبارہ چلنے کے قابل بناتی ہے۔
اس اہم ایجاد کو برطانیہ میں ہزاروں افراد پر آزمایا جا چکا ہے اور خود برطانوی نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) اور پارکنسن کی تنظیم نے اس میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ اب نیہا نے ایک کمپنی کی بنیاد رکھی ہے جسے ’واک ٹو بیٹ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ نیہا نے بتایا کہ جب یہ چھڑی مریضوں کو دی گئی تو ان کے چہرے پر مسکراہٹ نمایاں تھی اور اکثریت نے کہا کہ یہ چھڑی واقعی کام کی ہے۔ ’اس ایجاد کی کامیابی ہی میری سب سے بڑی خوشی ہے۔ پارکنسن کا کوئی علاج نہیں کیونکہ دوائیں صرف اس کیفیت کو ٹال دیتی ہیں جب کہ مریض چلتے چلتے گر جاتا ہے کیونکہ اس کے اعضا اور پٹھے منجمد ہو جاتے ہیں،‘ نیہا نے بتایا۔ انہوں نے اس کام کو 2014 میں اپنے فائنل ایئر پروجیکٹ کے طور پر شروع کیا تھا۔ پلاسٹک سے بنی ہلکی پھلکی چھڑی میں اعلیٰ ٹیکنالوجی کے تحت سینسر لگائے گئے ہیں جو چلنے والے کے قدم رکنے کو فوری طور پر محسوس کرتے ہیں۔ اس کا احساس کرتے ہی چھڑی خود کار انداز میں ارتعاش خارج کرتی ہے اور مریض دوبارہ چلنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
اس چھڑی کا ڈیزائن سادہ اور روایتی رکھا گیا ہے تاکہ لوگ مریض اور اس کی تکلیف کی جانب زیادہ متوجہ نہ ہوسکیں۔ نیہا نے بتایا کہ انہوں نے کئی ماہ تک مریضوں سے ملاقات کی اور اسپتالوں کا دورہ کر کے ڈاکٹروں سے بھی مشورہ لیا۔ نیہا چوہدری اب ماسٹرز کے آخری مراحل میں ہیں تاہم انہوں نے واک ٹو بیٹ کمپنی کا بہت سا کام برسٹل کی روبوٹکس لیبارٹری میں انجام دیا ہے۔ البتہ ان کے ساتھ ایک ناخوشگوار واقعہ اس وقت پیش آیا جب ان کے کاغذات مکمل نہ ہونے پر انہیں 14 روز میں برطانیہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ اس وقت تک وہ اپنے پروجیکٹ کے لیے ایک لاکھ برطانوی پونڈ کے بقدر رقم جمع کر چکی تھیں۔ تاہم جلد ہی برطانوی محکمہ داخلہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے نیہا کو برطانیہ میں رہنے کی اجازت دے دی ہے۔

loading...