اشاعت کے باوقار 30 سال

ترک صدر کی ’’اسلامی دہشتگردی‘‘ کے لفظ پر سخت تنقید

ترک صدر کی ’’اسلامی دہشتگردی‘‘ کے لفظ پر سخت تنقید

نیویارک: ترک صدر رجب طیب اردگان نے ’’اسلامی دہشتگردی ‘‘ کے لفظ پر سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے تو آج تک مسیحی، یہودی یا بدھ مت دہشت گردی کا نام نہیں سنا تو آج اسلام کو کیوں دہشتگردی سے منسلک کیا جا رہا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترک صدر نے نیویارک میں مسلم انجمنوں کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے تو آج تک مسیحی، یہودی یا بدھ مت دہشت گردی کا نام نہیں سنا تو آج اسلام کو کیوں دہشتگردی سے منسلک کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ روہنگیا مسلمان اس وقت انتہائی اضطراب بھری زندگی گزار رہے ہیں جن کی نسل کشی کھلم کھلا ہو رہی ہے جنہیں بدھ آبادی قتل کر رہی ہے لیکن ہم نے اسے بدھ مت دہشت گردی نہیں کہا۔ میں بدھ متوں کو دنیا کی اعتدال پسند فرقہ ماننے والوں سے کہتا ہوں کہ وہ اب "اسلامی دہشتگردی" کے لفظ کا استعمال بند کر دیں کیونکہ یہ حق تلفی ہے۔ انہوں نے میکسیکو کے حالیہ زلزلے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ترک ہلال احمر اس وقت میکسیکو میں مدد کر رہی ہے کیونکہ مسلم اخلاقیات و تعلیمات، امتیازانہ برتاو سے بالا تر ہو کر خدمت خلق کا درس دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ اس وقت بعض ممالک میں اگر ایک شخص بھی مارا جاتا ہے تو اسے سانحہ قرار دیا جاتا ہے جبکہ 10 لاکھ افراد کی موت پر صرف زبانی جمع خرچ پر ہی اکتفا ہوتا ہے، مگر دین اسلام کی روشنی میں ایک معصوم انسان کی موت انسانیت کی موت کے مترادف ہے۔

loading...